تقابل
Urdu book, p. 409
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ چودہ اصول جو معراج کی رات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیے گئے تھے۔ ان کی حیثیت صرف اخلاقی تعلیمات ہی کی نہ تھی ۔ دراصل یہ اسلام کا مینی فسٹو تھا۔ اور وہ پروگرام تھا جس پر آپ کو آنے والے زمانے میں سوسائٹی کی تعمیر کرنی تھی۔ یہ ہدایات اس وقت دی گئی تھیں جب آپ کی تحریک عنقریب تبلیغ کے مرحلہ سے گزر کر حکومت اور سیاسی اقتدار کے مرحلہ میں قدم رکھنے والی تھی۔ لہٰذا اس دور کے شروع ہونے سے پہلے یہ بتا دیا گیا کہ خدا کا پیغمبر کن اصولوں پر تمدن کا نظام قائم کرے گا۔ اسی لیے معراج میں یہ 14 نکات مقرر کرنے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے تمام پیروانِ اسلام کے لیے پانچ وقت کی نماز فرض کی تا کہ جو لوگ اس پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اُٹھیں، ان میں اخلاقی انضباط پیدا ہوا اور وہ خدا سے غافل نہ ہونے پائیں۔ ہر روز پانچ مرتبہ ان کے ذہن میں یہ بات تازہ ہوتی رہے کہ وہ خود مختار نہیں ہیں۔ بلکہ ان کا حاکم اعلیٰ خدا ہے جس کو انھیں اپنے کام کا حساب دینا ہے۔ (معراج کی رات) یہ چودہ اصول سورہ بنی اسرائیل کے تیسرے اور چوتھے رکوع (17:23-38) سے لیے گئے ہیں۔ اس سے قطع نظر کہ یہ ہدایات معراج کے سفر میں ملی تھیں یا وہ اس سے الگ نازل ہوئیں۔ سوال یہ ہے کہ ”اسلام کی تحریک اسٹیٹ میں تبدیل ہونے والی ہے ۔ اور تبلیغ کے مرحلہ سے گزر کر حکومت اور سیاسی اقتدار کا مرحلہ پیش آنے والا ہے۔ مگر جو ہدایات دی جارہی ہیں وہ سب کی سب شخصی اور اخلاقی نوعیت کی ہیں۔ کوئی بھی شخص سورہ بنی اسرائیل کا متعلقہ حصہ کھول کر دیکھ سکتا ہے کہ ان ہدایات میں سے کوئی ایک بھی ایسی نہیں ہے، جس کا قانون اور سیاست سے براہ راست تعلق ہو۔ پہلے اصول کو البتہ ان الفاظ میں سیاسی بنانے کی کوشش کی گئی ہے ۔" اقتدار اعلیٰ میں اس کے ساتھ کسی کی شرکت تسلیم نہ کی جائے“ مگر یہ صاحبِ تشریح کی اپنی ایجاد ہے۔ قرآن کے متعلقہ حصہ میں اس کا کہیں ذکر نہیں۔ پھر معراج کی اس مخصوص تشریح کا نتیجہ یہ ہوا کہ پانچ وقت کی فرض نمازیں "اخلاقی انضباط پیدا کرنے کا ذریعہ بن

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader