خط و کتابت مولانا صدر الدین اصلاحی
Urdu book, p. 41
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کو پیش کر کے میں کہوں کہ دیکھو یہ خود تمہاری تحریر میرے دعوے کا ثبوت فراہم کر رہی ہے، اس کے جواب میں وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرنے یا اصل بات کا جواب دینے کے بجائے یہ کہنا شروع کر دے کہ ”میری ایک نجی تحریر تمہیں پڑھنے کا کیا حق تھا۔“ کاش آپ جانتے کہ اس طرح کی باتیں ہمیشہ آدمی کی اپنی کمزوری کا اعتراف ہوتی ہیں، وہ دوسرے کی تغلیط نہیں کرتے۔ آپ کی یہ روش میرے لیے سخت حیرت انگیز ہے کہ میں نے اپنے مختصر تبصرہ میں نہایت واضح قسم کی قطعی باتیں آپ کے سامنے رکھی تھیں، مگر آپ نے ان کا کوئی جواب نہیں دیا، اور اصل مسئلہ پر خاموش رہ کر دوسری دوسری باتیں کہنا شروع کردیں۔ کیا آپ کا ضمیر اس پر مطمئن ہے کہ اس طرح کا رویہ اختیار کر کے واقعی آپ خدا اور خلق خدا کے سامنے بری الذمہ ہو گئے ہیں۔ کاش آپ یہ سوچتے کہ یہ ایسا مسئلہ نہیں ہے جس کو اپنے ذہن میں ٹال کر آپ یہ سمجھیں کہ وہ حقیقت میں بھی ٹل گیا۔ وہ بہرحال آپ کی طرف لوٹے گا، پھر کیا اس وقت بھی آپ خاموش رہیں گے۔ خادم وحیدالدین
مولانا صدرالدین صاحب کی طرف سے میرے اس خط کا کوئی جواب نہیں آیا۔ چنانچہ میں نے جلال الدین انصر صاحب (مقیم رامپور) کے نام ایک خط میں اس کی شکایت کی۔ جس کے جواب میں انصر صاحب کا ایک خط مورخہ 11 دسمبر 1962ء مجھے ملا جس میں حسب ذیل الفاظ درج تھے : ”مولانا صدرالدین صاحب کو میں نے آپ کا پیغام پہنچا دیا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ آپ کا پچھلا خط جواب طلب نہیں تھا، اس لیے انہوں نے جواب نہیں دیا ہے، البتہ آپ سے انہوں نے دو چیزیں طلب کی تھیں لیکن وہ آپ نے نہیں بھیجیں۔ دو چیزوں سے مراد ایک تو مولانا ابو اللیث صاحب کا خط بنام مولانا صدرالدین صاحب دوسرا مولانا صدرالدین صاحب کے جواب پر میرا مفصل تبصرہ، جس کو میں نے اس لیے نہیں بھیجا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader