Urdu book · تعبیر کی غلطی

تعبیر کی غلطی

Urdu book, p. 410

By Maulana Wahiduddin Khan

گئیں۔ ان کا مقصد یہ ہوگا کہ اس تمدنی پروگرام کو عملی جامہ پہنانے والے اپنا کام ٹھیک طریقہ سے کریں! کرنے کا کام اب میں بتاؤں گا کہ مذکورہ بالا تشریح دین کے مطابق اس وقت کرنے کا کام کیا ہے۔ اس سلسلے میں جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے۔ وہاں مولانا مودودی قانون شریعت کے نفاذ کی جو مہم چلا رہے ہیں، اس کو شکلاً میں درست سمجھتا ہوں۔ پاکستان ایک مسلمان ملک ہے۔ اور آزادی کے بعد اصولی طور پر وہاں کی آبادی کو یہ اختیار حاصل ہو گیا ہے کہ وہ اپنے یہاں جس طریق زندگی اور جس نظام معاشرت کو چاہے رائج کرے۔ ایسی حالت میں پاکستان کی امت مسلمہ کا یہ فرض ہوگیا ہے کہ وہ اپنے درمیان اسلامی نظام امارت قائم کرے اور اس کے تحت زندگی کے تمام شعبوں کو اسلامی احکام وقوانین کے مطابق منظم کرے۔ تا ہم نفاذ شریعت کی مہم میں حکمتِ تدرج کو ملحوظ رکھنا لازمی طور پر ضروری ہے۔ مگر میری یہ رائے اس مہم کی شکل کے بارے میں ہے۔ اس کے پیچھے جو فلسفہ ہے، وہ درست نہیں۔ اور فلسفہ کی غلطی ہی کا یہ نتیجہ ہے کہ مطالبہ کی اس مہم میں بہت سی خرابیاں پیدا ہو گئی ہیں۔ اور ہوتی جارہی ہیں ۔ نیز اسی کا نتیجہ ہے کہ مہم کے افراد میں نیچے سے اوپر تک شدید عملی نقائص پائے جاتے ہیں۔ اس بنا پر اولاً تو مجھے امید نہیں کہ یہ مہم کامیاب ہوگی۔ تاہم اگر وہ کامیاب بھی ہو جائے تو کردار کی کمزوری بہت جلد اسے ناکامی میں تبدیل کر دے گی ۔ اور پاکستان میں جماعت اسلامی کی حکومت کا وہی حشر ہو گا جو ہند میں کانگریس وزارت کا ہوا ۔ اگر میرا قیاس غلط ثابت ہو تو یقیناً مجھے خوشی ہوگی ۔ مگر جہاں تک زبان کے کہنے کا تعلق ہے، ظاہر ہے آدمی وہی کہنے پر مجبور ہے جو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ اس کی ایک مثال غلاف کعبہ (1963) کا مسئلہ ہے۔ غلاف کے ٹکڑوں کو جس طرح دھوم دھام کے ساتھ مکہ روانہ کیا گیا، اور لاکھوں آدمیوں کے جلوس کے ساتھ اس کو ایک تعزیہ کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page