Urdu book · تعبیر کی غلطی

کرنے کا کام

Urdu book, p. 411

By Maulana Wahiduddin Khan

شکل میں ہوائی اڈے تک پہنچایا گیا، وہ خواہ اصطلاحی بدعت ہو یا نہ ہو، مگر یہ یقینی ہے کہ یہ محض ایک عوامی تماشا تھا جس کا حقیقی دینداری سے کوئی تعلق نہیں۔ (اسی طرح یوم شوکت اسلام 1970)۔ مگر وہی لوگ جن کے نزدیک میلاد النبی کے جلسے اور جلوس اسلامیت اور محبت رسول کا ثبوت نہیں تھے۔ آج ان کا فتویٰ یہ ہے کہ غلاف کعبہ کا یہ جلوس ایک ”خیر عظیم“ کا مظاہرہ تھا، جو بہت بڑے پیمانے پر شہر لاہور میں رونما ہوا۔ اور جو لوگ اس پر تنقید کر رہے ہیں ان کی حیثیت گویا ”مکھیوں“ کی سی ہے، جو اس کے تمام بہترین پہلوؤں کو نظر انداز کر کے گندگی کے چھینٹوں پر جا بیٹھی ہو (ماہنامہ ترجمان القرآن، اپریل 1963، صفحہ 55) — صحیح ذہن نہ ہو تو تحریکیں بالآخر اسی مقام پر پہنچتی ہیں۔ ابتداء جب تک اس قسم کے عوامی واقعات ان کے لیے کسی سیاسی اہمیت کے حامل نہیں ہوتے وہ ان پر تنقید کرتی ہیں۔ مگر اگلے مراحل میں پہنچنے کے بعد جب اس قسم کے واقعات میں ان کو سیاسی اہمیت نظر آنے لگتی ہے۔ تو ان کی زبان اور ان کی اصطلاحات بدل جاتی ہیں جو چیز پہلے فضول اور عیب دکھائی دیتی تھی، وہ اب خیر عظیم بن جاتی ہے۔ ہندوستان میں ہمیں جو کام کرنا ہے اس کو میں چند شقوں میں تقسیم کر کے الگ الگ عنوانات کے تحت بیان کروں گا۔ 1۔ پہلی بات یہ کہ ہم ان فرائض اور ذمے داریوں کو ادا کریں، جو ذاتی طور پر کسی مومن سے مطلوب ہوتی ہیں۔ صحیح معنوں میں خدا کے عبادت گزار بنیں، ہمارے جان اور مال میں خدا کا جو حق عائد ہوتا ہے، اس کو ٹھیک ٹھیک ادا کریں ۔ اور اخلاق و معاملات میں ان تمام پابندیوں کو اختیار کریں، جو اسلامی شریعت میں شخصی زندگی سے متعلق بیان کی گئی ہیں۔ 2۔ دوسری چیز جو ہندوستان کے مسلمانوں پر شرعی فریضہ کی حیثیت سے عائد ہوتی ہے۔ وہ تنظیم ہے جس کو قرآن میں: وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ (آل عمران، 3:103) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس چیز کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ تین مسلمان اگر کسی ”فلانا“ میں ہوں، تو اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page