Urdu book · تعبیر کی غلطی

کرنے کا کام

Urdu book, p. 412

By Maulana Wahiduddin Khan

موقع کے لیے بھی حکم ہے کہ وہ اپنی جماعت بنا لیں اور اپنا ایک امیر مقرر کر لیں۔ (مسند احمد، حدیث نمبر 6647) تنظیم کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان الگ الگ ٹولیوں میں بٹے ہوئے یا متفرق نہ ہوں، بلکہ ایک گروہ کی شکل میں زندگی گزاریں۔ ان کا ایک منتخب امیر ہو جس کی سب اطاعت کرتے ہوں۔ ان کا ایک مرکزی ادارہ ہو جہاں سے انھیں ہدایات دی جاتی ہوں۔ موجودہ حالات میں جس درجہ کی تنظیم ہمارے لیے ممکن ہو، اس درجہ کی ایک تنظیم برپا کرنا ہمارے اوپر ایک شرعی فریضہ ہے، اور اس فریضہ سے ہندوستان کے مسلمان اس وقت تک سبکدوش نہیں ہو سکتے، جب تک وہ عملاً اپنے درمیان ایسی ایک تنظیم قائم نہ کر لیں۔ اور اس کے ماتحت اپنے اسلامی فرائض کو ادا کریں۔ تنظیم اہل ایمان کی دنیوی ضرورتوں میں سے ایک ناگزیر ضرورت ہے جیسا کہ حدیث میں ارشاد ہوا ہے: عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلی الله علیه وسلم قَالَ: إِنَّ الشَّيْطَانَ ذِئْبُ الْإِنْسَانِ كَذِئْبِ الْغَنَمِ يَأْخُذُ الشَّاةَ الْقَاصِيَةَ وَالنَّاحِيَةَ، فَإِيَّاكُمْ وَالشِّعَابَ، وَعَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ وَالْعَامَّةِ (مسند احمد، حدیث نمبر 22028)۔ یعنی، حضرت معاذ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس طرح بھیڑیا تنہا بکری کو پکڑ لیتا ہے اسی طرح شیطان انسان کا بھیڑیا ہے، تم الگ الگ ٹولیوں میں متفرق ہونے سے بچو اور جماعت کو اور سب کے ساتھ مل کر رہنے کو لازم سمجھو۔ اجتماعیت، اسلام میں لازمی طور پر مطلوب ہے۔ مگر اس حکم سے دراصل وہ اجتماعیت مراد ہے جو سارے اہل اسلام پر مشتمل ہو۔ اس سے کمتر درجہ کی اجتماعیت کو اس کا مصداق ٹھہرانا دراصل امت میں فرقہ بندی پیدا کرنا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مکمل اجتماعیت کے ظہور میں آنے سے پہلے کوئی اجتماعیت قائم نہیں ہوگی۔ یقیناً اس سے پہلے بھی جماعتیں بنیں گی۔ مگر ان جماعتوں کی حیثیت دراصل مطلوب اسلامی اجتماعیت کے قائم مقام کی نہیں ہے۔ بلکہ وہ مطلوب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page