کرنے کا کام
Urdu book, p. 413
By Maulana Wahiduddin Khan
اجتماعیت کو پیدا کرنے کی کوشش ہے، جو انفرادی کوشش کی شکل میں بھی ظہور کرتی ہے، اور اجتماعی کوشش کی شکل میں بھی۔ اگر دوسرے نوع کی اجتماعیت کے بارے میں تصور واضح نہ ہو تو اس کا شدید اندیشہ ہے کہ اجتماعی کوشش کو اصل اسلامی اجتماعیت کا قائم مقام سمجھ لیا جائے اور اس سے نکلنے کو ارتداد کے ہم معنی سمجھا جانے لگے۔ موجودہ حالات میں ہماری اس اجتماعیت کا مقصد یہ ہوگا کہ حسب استطاعت ہم ایک تنظیمی وحدت میں منسلک ہوں ، تا کہ ہمارے تمام دینی اور ملی کام اجتماعی مصالح کے تحت انجام پائیں۔ ہمارا دار القضا اور بیت المال ہو جس کے تحت لوگوں کو شرعی مسائل بتائے جائیں۔ باہمی قضا یا کا احکام اسلامی کے مطابق فیصلہ کیا جائے ، اور زکوٰۃ اور دوسری مالیات اجتماعی طور پر وصول اور خرچ کی جائیں ۔ تبلیغ واشاعت کا کام منظم طور پر انجام دیا جائے ۔ مکاتب و مدارس اور مساجد و مقابر کی دیکھ بھال ہو، نوممسلموں کی حفاظت و تربیت کی جائے ، وغیرہ وغیرہ۔ فقہ کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ ”شرعی معاملات میں مسلمانوں پر غیر مسلم حا کم کا حکم خواہ ظاہراً نافذ ہو جائے مگر باطناً نافذ نہیں ہوتا ۔ مثلاً ایک غیر مسلم حاکم ایک مسلمان کا نکاح فسخ کرے تو خواہ اس کا یہ حکم احکام شرعی کے مطابق ہی کیوں نہ ہو، اور زوجین میں بھلا تفریق ہی کیوں نہ ہو جائے ، لیکن در حقیقت نہ اس کے احکام فسخ کرنے سے نکاح فسخ ہوگا، اور نہ شرعاً عورت کے لیے دوسرے شخص سے نکاح کرنا جائز ہوگا۔ اگر وہ نکاح کرے گی تو اس کا نکاح باطل ہوگا، اور اسلامی شریعت کی نگاہ میں اس کی اولاد ناجائز اولاد ہوگی۔ گو یا قضاء شرعی حاصل کرنے کے لیے اسلامی قاضی کا ہونا ضروری ہے۔ پھر اسی کے ساتھ فقہا یہ کہتے ہیں کہ اہل شہر جب کسی شخص کے اقتدار پر بیعت کر لیں تو وہ سلطان ہو جاتا ہے۔ مگر قاضی کو اس طرح عامۃ المسلمین مقرر نہیں کر سکتے۔ قاضی وہی ہوسکتا ہے جس کا تقرر خود خلیفہ نے کیا ہو، ان دونوں مسئلوں کو ملا کر بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ غیر مسلم حکومت کے اندر رہتے ہوئے قضائے شرعی حاصل کرنے کی کوئی صورت ہی نہیں ۔ کیوں کہ قضائے شرعی کے لیے با اختیار قاضی کا ہونا ضروری ہے ۔ اور قاضی کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader