Urdu book · تعبیر کی غلطی

کرنے کا کام

Urdu book, p. 414

By Maulana Wahiduddin Khan

عامۃ المسلمین بطور خود مقرر نہیں کر سکتے۔ بلکہ صرف حکومت ہی اس کا تقرر کر سکتی ہے۔ اور حکومت بھی وہ جو اسلامی ہو۔ اس لیے اب ہمارے لیے دو ہی صورت ہے۔ یا تو ہم عملاً ارتداد کو قبول کر لیں یا پھر اقتدار کو بدل کر اسلامی حکومت قائم کریں۔ مگر اس استدلال کی بنیاد ایک غلط فہمی پر ہے۔ فقہا کا یہ کہنا کہ قاضی کو عامۃ المسلمین مقرر نہیں کر سکتے۔ ایک خاص معنی میں ہے۔ میں یہاں امام ابن بزاز حنفی کا اقتباس نقل کروں گا: اِجْتَمَعَ أَهْلُ الْبَلْدَةِ وَقَدَّمُوا رَجُلًا عَلَى الْقَضَاءِ لَا يَصِحُّ لِعَدَمِ الضَّرُورَةِ، وَإِنْ مَاتَ سُلْطَانُهُمْ اجْتَمَعُوا عَلَى سُلْطَنَةِ رَجُلٍ جَازَ لِلضَّرُورَةِ ( الفتاوی البزازية، جلد 1، صفحہ 489)۔ یعنی، اہل شہر نے جمع ہو کر قضاء کے لیے کسی شخص کو آگے بڑھایا تو یہ صحیح نہیں ہے۔ کیوں کہ ضرورت داعی نہیں ہے۔ لیکن اگر بادشاہ مر جائے اور کسی شخص کی سلطنت پر سب لوگ مجتمع ہو جائیں تو یہ جائز ہے کیوں کہ ضرورت داعی ہے۔ معلوم ہوا کہ ان دونوں قسم کے معاملات میں فرق کرنے کی وجہ ”ضرورت“ ہے۔ یعنی سلطان کے تقرر کے لیے عامۃ المسلمین کی آراء کی ضرورت ہے۔ اس لیے وہ اپنی رائےیں دے کر اس کا تقرر کرتے ہیں۔ مگر قاضی کے تقرر کے لیے ان کی را یوں کی ضرورت نہیں کیوں کہ سلطان خود اس کے تقرر کے لیے موجود ہے۔ علامہ ابن عابدین صاحب رد المحتار نے بزازیہ سے اس مسئلہ کو نقل کر کے لکھا ہے: قُلْتُ: وَهَذَا حَيْثُ لَا ضَرُورَةَ وَإِلَّا فَلَهُمْ تَوْلِيَةُ الْقَاضِي أَيْضًا (رد المحتار، جلد 5، صفحہ 367)۔ یعنی، یہ مسئلہ ( کہ عامۃ المسلمین کا کسی کو قاضی بنانا صحیح نہیں ہے ) اس موقع کے لیے ہے جہاں اس کی ضرورت نہیں ہے ورنہ عامۃ المسلمین کو تولیت قضا کا بھی اختیار ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایسی حالت میں جب کہ اقامت قاضی کے لیے مسلمانوں کی ضرورت نہ ہو عامۃ المسلمین کی اقامت قاضی صحیح نہیں ہے۔ لیکن اگر ضرورت ہو تو پھر مسئلہ یہ ہے کہ فلهم تولية

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page