Urdu book · تعبیر کی غلطی

کرنے کا کام

Urdu book, p. 415

By Maulana Wahiduddin Khan

الْقَضَاءُ یعنی عامۂ مسلمین کو جس طرح اقامتِ سلطان کا حق ہے، اقامتِ قاضی کا بھی حق ہے۔ مسلمان جس شخص کی حیثیت قضا پر متفق ہو جائیں وہ شرعی حیثیت سے قاضی قرار پائے گا: يَصِيرُ الْقَاضِي قَاضِياً بِتَرَاضِي الْمُسْلِمِينَ (رَد المُحتار لابن عابدین، جلد 5، صفحہ 369)۔ اصل یہ ہے کہ تمام مناصب شرعیہ کے قیام کا منبع و مصدر حقیقتاً عامۂ مسلمین ہی ہیں۔ اسلامی خلافت کی موجودگی میں چونکہ خلیفہ کو مسلمانوں کی ولایت حاصل ہو جاتی ہے۔ اس لیے وہ نیابۃً عن المسلمین ان کے حقوق کا استعمال کرتا ہے۔ اگر خلیفہ، المسلمین یا والی کسی شخص کو قاضی مقرر کرتا ہے اور وہ صحیح ہوتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ خلیفہ یا والی منتخب ہونے کے بعد عامۂ مسلمین کا نائب ہو جاتا ہے اور اسی نیابت کی وجہ سے مسلمانوں کی طرف سے شرعاً اس کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ قاضی مقرر کرے اور اس تقرر کے بعد وہ قاضی حقیقتاً مسلمانوں ہی کا نائب ہوتا ہے ۔ اسی بنا پر فقہا یہ کہتے ہیں کہ خلیفہ اور والی کے انتقال سے اس کا مقرر کردہ قاضی منصبِ قضاء پر بدستور قائم رہتا ہے۔ کیوں کہ حقیقتاً اس کو یہ منصب عامۂ مسلمین کی طرف سے ملا ہے اور وہ بدستور موجود ہے۔ اس لیے جہاں سے اس کو یہ منصب حاصل ہوا ہے، جب وہ موجود ہے تو خلیفہ یا والی کے مرنے سے اس کا منصب فوت نہیں ہو سکتا (ملاحظہ ہو بدائع الصنائع، مصر 1910ء، جلد 7، صفحہ 16، بیان ما یخرج بہ القاضی عن القضاء)۔ 3۔ تیسری ضروری چیز وہی ہے، جس کو میں نے پہلے ”شہادت و تبلیغ“ کے عنوان کے تحت بیان کیا ہے۔ یعنی اس ملک کے غیر مسلموں کے سامنے دینِ اسلام کو پیش کرنا۔ ان کے سامنے منذر اور مبشر بن کر کھڑا ہونا۔ ختم نبوت کے بعد مسلمان نبی کے قائم مقام ہیں۔ وہ اہل دنیا کی طرف مبعوث ہیں اور ہم اس قوم کی طرف مبعوث ہیں جہاں ہم پیدا ہوئے ہیں۔ اس لیے یہاں کے باشندوں کی نسبت سے یہ اہم ترین کام ہے، جو مسلمانوں کو اس ملک میں انجام دینا ہے۔ اپنی بہترین اہلیت اور بہترین طاقت کو استعمال کر کے انھیں اس ملک کے لوگوں کے سامنے اس حد تک اسلام کورکھ دینا ہے کہ قیامت میں کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ اس کو اس کی خبر نہیں تھی۔ ہم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page