Urdu book · تعبیر کی غلطی

کرنے کا کام

Urdu book, p. 416

By Maulana Wahiduddin Khan

کو انتہائی خیرخواہی اور حق پسندی کے ساتھ نشر افکار کی ایک مہم شروع کرنی ہے، جو برسہا برس تک جاری رہے اور اس ملک کے ایک ایک شخص تک اسلام کی آواز انتہائی مؤثر اور قابلِ قبول شکل میں پہنچادے۔ یہ ایک نہایت صبر آزما اور طویل ترین عمل ہے۔ جو بہترین صلاحیت اور بے پناہ طاقت چاہتا ہے ۔ پھر اس راہ میں وہ سب کچھ پیش آسکتا ہے جس کو ہم اسلامی دعوت کی تاریخ میں پڑھتے رہے ہیں۔ مگر ایمان اور عزیمت کا تقاضا یہی ہے کہ اس راہ میں خواہ جو کچھ پیش آئے۔ بہر حال اسے جاری رکھا جائے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے دل ہمارے پیغام کی قبولیت کے لیے کھول دے یا ہمارے لیے کوئی سبیل پیدا فرمادے۔ ہندوستان کے مسلمان جن حالات میں ہیں، ان حالات میں ان کی یہی ذمہ داری قرآن وحدیث سے ثابت ہوتی ہے۔ یہی علمائے امت نے سمجھا ہے، اور اس طرح کے حالات میں بسنے والے مسلمانوں نے ہمیشہ اسی ڈھنگ سے اپنی شرعی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ چند کام جو میں نے اوپر بیان کیے ہیں۔ ان کی ایک حیثیت یہ ہے کہ ان کے ذریعہ سے ہم اپنی ذمہ داریوں کو ادا کریں گے۔ جو مسلمان ہونے کی حیثیت سے خدا کی طرف سے ہمارے اوپر عائد ہوتی ہیں۔ دوسرے یہ کہ اگر ہم نے ٹھیک ٹھیک ان ذمہ داریوں کی تعمیل کر دی تو وہ چیز ہمارے لیے خدا کی نصرت کو کھنچنے والی ہوگی۔ بندہ اپنے رب کے احکام کی تعمیل کر کے صرف اپنے فرض سے سبکدوش نہیں ہوتا، بلکہ اسی کے ساتھ وہ زمین و آسمان کے مالک کی عنایات کا مستحق قرار پاتا ہے۔ خدا کی نصرت اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے، جس کا نتیجہ دنیا میں تمکین فی الارض اور آخرت میں جنت کی وراثت ہے۔ ہماری کامیابی کا اصل راز یہی ہے کہ ہم انفرادی اور اجتماعی حیثیت سے اپنی زندگی کو خدا کی مرضی کے مطابق بنائیں اسی کے ذریعہ ہمارے لیے کامیابی کی راہیں کھل سکتیں ہیں۔ اس کے بغیر محض کوئی سیاسی مہم یا کوئی انقلابی پروگرام ہمارے مسائل کو حل نہیں کر سکتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page