کرنے کا کام
Urdu book, p. 417
By Maulana Wahiduddin Khan
اس سلسلے میں ایک اور بات سمجھ لینی چاہیے ۔ اوپر جو مختلف کام میں نے بیان کیے ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہماری عملی اور دعوتی جدوجہد بالکل ایک لگی بندھی فہرست کے مطابق جاری ہوگی۔ عملی اور دعوتی جدوجہد ایک پھیلی ہوئی چیز ہے، جو کسی منطقی لکیر کی لازمی رعایت کرتے ہوئے نہیں چلتی ، بلکہ سیلاب کی طرح پھیلتی اور سمٹتی ہوئی چلتی ہے۔ اس فہرست کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہم اپنے ذہن میں کس طرح اپنی شرعی ذمہ داریوں کا ایک منضبط تصور قائم کریں کہ ہمارا عملی پروگرام بھی متعین ہو جائے۔ اور تمام شرعی تقاضے بھی اپنی اپنی جگہ حاصل کر لیں۔ یہ مسئلے کی علمی تعیین ہے، نہ کہ اس کی دعوتی تشریح۔ اگر مسئلے کی علمی حیثیت اپنی صحیح اور متعین شکل میں آدمی کے سامنے ہو، تو اس کی جدوجہد ظاہری طور پر مختلف صورتیں اختیار کرنے کے باوجود اپنے اصل مقام کو نہیں کھوتی۔ وہ ہر حال میں اپنے صحیح مرکز سے جڑی رہتی ہے، لیکن اگر مسئلہ اپنی علمی حیثیت میں متعین نہ ہو، یا ہو تو غلط شکل میں، تو ایسی صورت میں آدمی غلط سمتوں میں بھٹکنے لگتا ہے۔ حتیٰ کہ بعض اوقات اس کا صحیح کام بھی حقیقتاً اپنے اندر ایک غلط پہلو لیے ہوئے ہے ملتا ہے۔ اس کے اس ارضاں اس کی اس میٹا ہوتا ہے۔ کیوں کہ اس کے پیچھے صحیح ذہن موجود نہیں تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader