Urdu book · تعبیر کی غلطی

قبول حق کی رکاوٹیں

Urdu book, p. 418

By Maulana Wahiduddin Khan

قبول حق کی رکاوٹیں کوئی بات خواہ بجائے خود صحیح ہو، یہ ضروری نہیں کہ سننے والے کا ذہن اس کی صحت کو قبول کرلے۔ طرح طرح کے شعوری یا غیر شعوری اسباب ہوتے ہیں، جو اکثر اوقات آدمی کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ ایک صاحب جو زیر بحث فکر سے متاثر ہیں، انہوں نے میرے خیالات سننے کے بعد کہا۔ "صحیح جو بھی ہو مگر ایک چیز ہے کہ تمہارے مقابلے میں ان کی بات سمجھ میں خوب آتی ہے۔" لیکن اس سمجھ میں آنے کا تعلق اصل بات سے نہیں، بلکہ مخاطب کی ذہنی ساخت سے ہے۔ تقسیم سے پہلے جب مسلم لیگ کا عروج تھا اس وقت مولانا مودودی نے اسلامی تحریک کا نقشہ پیش کیا، تو اس وقت عام مسلمانوں کی طرف سے جو جواب ملا وہ یہی تھا کہ تم جو کہتے ہو وہ تو ہماری سمجھ میں نہیں آتا۔ البتہ یہ بات خوب سمجھ میں آتی ہے کہ جہاں جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں، وہاں ان کی الگ حکومت قائم ہو جائے اور پھر وہاں ان کے اپنے عقیدے و مسلک کے مطابق نظام چلایا جائے۔ مگر ظاہر ہے کہ یہ جواب صرف کہنے والوں کی اپنی ذہنی ساخت کا نتیجہ تھا۔ ورنہ نظریہ پاکستان کے مقابلے میں اس دوسرے نظریہ کے اندر زیادہ صداقت تھی۔ اسی طرح جب اسلام کا معاشی نقشہ پیش کیا جاتا ہے تو وہ سوشلسٹ ذہنوں کو اپیل نہیں کرتا۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کے مقابلے میں یہ بات ہماری سمجھ میں زیادہ آتی ہے کہ ذرائع ملکیت کو انفرادی قبضہ سے نکال کر انھیں سماج کے مجموعی مفاد کے مطابق چلایا جائے۔ اور تم جو طریقہ بتاتے ہو وہ ہم کو محض خیالی چیز معلوم ہوتا ہے۔ مگر ہم جانتے ہیں کہ یہ محض کہنے والے کا اپنا ذہن ہے جو بول رہا ہے۔ ورنہ اسلام کی معاشی سکیم ہر لحاظ سے سوشلزم سے زیادہ بہتر اور قابل عمل ہے۔ اس صورت حال کی ایک اور وجہ دنیا پرستی ہے۔ جو آدمی کو بے حس اور سطحیست پسند بنا دیتی ہے۔ دین کی حقیقت کیا ہے اور اس کی صحیح ترین تعبیر میں کیا کیا غلطیاں ہوسکتی ہیں۔ یہ ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page