Urdu book · تعبیر کی غلطی

قبول حق کی رکاوٹیں

Urdu book, p. 419

By Maulana Wahiduddin Khan

نازک اور لطیف بحث ہے۔ اور اس کو پانے کے لیے ایسے ذہنوں کی ضرورت ہے جو یکسوئی کے ساتھ اس پر غور کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ مگر موجودہ زمانے کے انسانوں کا حال یہ ہے کہ وہ مادی واقعات میں الجھے ہوئے ہیں۔ وہ آیات اللہ پر غور نہیں کرتے، عارضی دنیا کے ہنگامے ان کی توجہ اور ان کی دلچسپیوں کا مرکز بن گئے ہیں۔ انہوں نے اپنے نفس کے مطالبات پورا کر لینے ہی کو کافی سمجھ لیا ہے۔ اور اس سے آگے ان کے رب کی طرف سے جو ”رزق خیر “ اتر رہا ہے، اس میں حصہ پانے کی کوشش نہیں کرتے۔ اس چیز نے ان کو بے حس اور ظاہر ہیں بنا دیا ہے۔ ان کی سطحی پندی نے انھیں ایسی نظروں سے محروم کر دیا ہے، جو لطیف حقائق کا ادراک کر سکیں۔ وہ صرف سامنے کی چیزیں دیکھ سکتے ہیں۔ گہری حقیقتوں کا مشاہدہ کرنے کی طاقت ان میں نہیں رہی۔ حتی کہ موجودہ زمانے کی سطحیات بہت سے واقعات کو چھپانے کا پردہ بن گئی ہے۔ ایک مرتبہ ایک بزرگ نے ایک تقریر کے بارے میں اپنا تاثر ظاہر کرتے ہوئے کہا ”ایمان یقین جیسے ابل رہا تھا حالانکہ اسی تقریر کے بارے میں میرا قطعی احساس یہ ہے کہ وہ صرف خوش بیانی تھی، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ سطحیات پسندی کا یہ مرض جب کسی کے اندر پیدا ہو جائے تو دلائل کا وزن محسوس کرنا اس کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔ اپنی بے حسی کی وجہ سے وہ غیر مادی حقائق کا ادراک کرنے سے عاجز رہتا ہے۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ اسلام کی بلند تر حقیقتوں کو وہی شخص پا سکتا ہے، جو دنیا اور دنیا کی چیزوں سے اپنے آپ کو اوپر اٹھا چکا ہو۔ جو اس سے اوپر نہ اٹھ سکے اس کے عین سر کے اوپر حقیقت کی آواز گونج رہی ہوگی، مگر اس کو گرفت کرنے کی طاقت سے وہ محروم ہوگا۔ اس کے پاس وہ کان نہیں ہوں گے جن سے وہ سنے، اور وہ دل نہیں ہوگا جس سے وہ اسے سمجھے۔ اعلیٰ ترین دلائل پا لینے کے باوجود اسے اپنے خیالات پر نظر ثانی کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی۔ وہ بدستور اپنے مانوس دائرے میں پڑا رہے گا، جیسے زمین و آسمان میں صحت و تندرستی کے انتظامات اس شخص کے لیے بالکل بے کار ثابت ہوئے ہیں، جو کسی مہلک مرض میں مبتلا ہو۔ عین ان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page