قبول حق کی رکاوٹیں
Urdu book, p. 420
By Maulana Wahiduddin Khan
انتظامات کے درمیان وہ صحت و طاقت سے محروم رہتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح بے حسی کا مرض جب کسی کے اندر پیدا ہو جائے تو روشنی اور ہدایت کے سارے مواقع اس کے لیے بے کار ہیں۔ وہ ان کو پانے کے باوجود ان سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کر سکتا۔ 3۔ اس سلسلے کی ایک اور چیز شخصیت پرستی ہے۔ بعض مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کسی شخص سے بے حد متاثر ہو جاتا ہے۔ اس کی ہر بات اسے صحیح نظر آتی ہے۔ کسی مسئلے کے بارے میں وہ جو کچھ کہہ دے، اسکو وہ آخری حقیقت سمجھتا ہے، وہ اس کو غیر شعوری طور پر معیارِ حق کا درجہ دیتا ہے۔ وہ یا تو اس کے سوا کسی کے خیالات کا مطالعہ نہیں کرتا۔ اور اگر کرتا ہے تو ایک مخصوص ذوق بن جانے کی وجہ سے اس کو کسی دوسرے کی بات پسند ہی نہیں آتی۔ جیسے کسی کی زبان میٹھی ہو گئی تو اس کو دوسرے مزوں کا احساس نہیں ہوگا۔ یہ سب کچھ اکثر اوقات بالکل بے خبری میں ہوتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں دین کی خاطر ایک شخص کی قدر کر رہا ہوں ۔ حالانکہ درحقیقت وہ شخصیت پرستی کے مرض میں مبتلا ہو چکا ہوتا ہے۔ جو آدمی کے فکری وجود کے لیے دق اور سل کے مرض سے بھی زیادہ مہلک ہے۔ ایک پڑھے لکھے مسلمان ہیں، جو ایک مصنف سے بے حد متاثر ہیں۔ میں نے اس مصنف کی ایک کتاب دیکھی جس کا ایک بیان صریح طور پر قرآن کی تعلیمات سے ٹکراتا تھا۔ میں نے یہ حصہ ان مسلمان بزرگ کو دکھایا اور اپنا تبصرہ عرض کرنے کے بعد پوچھا کہ اس کے متعلق آپ کیا کہتے ہیں۔ یہ فرق اتنا کھلا ہوا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ کسی بھی غیر جانبدار شخص کی اس کے بارے میں دو رائے نہیں ہو سکتی۔ مگر انہوں نے متعلقہ عبارت کو کئی بار پڑھنے کے بعد جو جواب دیا وہ یہ تھا ”میں اس کو بالکل ٹھیک سمجھتا ہوں اس میں کوئی بات قرآن کے خلاف نہیں ہے۔“ بخدا میں نے دیکھا کہ یہ الفاظ بولتے ہوئے ان کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ صاف نظر آ رہا تھا کہ ان کا فہم اس کو قبول کرنے سے صریح طور پر ابا کر رہا ہے۔ مگر حق کو ماننے میں صرف یہ چیز رکاوٹ بن گئی کہ انہوں نے ایک شخصیت کو بت بنا کر اپنے ذہن میں بٹھا لیا تھا۔ ان کی سمجھ میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader