قبول حق کی رکاوٹیں
Urdu book, p. 421
By Maulana Wahiduddin Khan
نہیں آتا تھا کہ اس شخص کی کوئی بات غلط بھی ہوسکتی ہے۔ شخصیت پرستی نے ان کے ذہن کی تمام کھڑکیاں بند کردی تھیں۔ پھر حق کی روشنی اس کے اندر گھستی تو کدھر سے گھستی۔ 4۔ چوتھی چیز استکبار یا اپنے بارے میں برتری کا احساس ہے۔ استکبار در حقیقت خود فریبی کی ایک حالت کا نام ہے۔ ایسا شخص اپنے اندر کچھ خوبیاں دیکھ کر انھیں کی روشنی میں کمتری اور برتری کا ایک خود ساختہ معیار بنا لیتا ہے۔ جس کی وجہ سے کسی اور کی حقیقی خوبیاں اسے نظر نہیں آتیں۔ اس کے ذہنی چوکھٹے میں ہمیشہ اس کا اپنا وجود ہی دوسروں سے اونچا دکھائی دیتا ہے۔ جو شخص اس قسم کی نفسیات میں مبتلا ہو وہ کبھی حق سے آشنا نہیں ہو سکتا۔ وہ ہمیشہ حق پر غور کرنے کے بجائے حق کو پیش کرنے والے شخص کو دیکھے گا۔ اور جب اپنی مخصوص ذہنی ساخت کی بنا پر اس کے کبر کو نظر آئے گا کہ مخاطب اس سے ”کمتر درجہ“ کا آدمی ہے تو اس کا ذہن فوراً اس سے ابا کرنے لگے گا، وہ اس کے لیے تیار نہیں ہوگا کہ اپنے سے ”کمتر درجہ“ کے کسی آدمی کی بات قبول کرلے۔ کبر کے مریض کے سامنے حقیقت آتی ہے۔ مگر وہ اسے قبول کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتا۔ حقیقت کی آواز اس کی فطرت کو جھنجھوڑتی ہے۔ وہ دلیل کے میدان میں اس کے ذہن کو لاجواب کر دیتی ہے۔ مگر اس کے باوجود وہ اسے قبول کرنے کی ہمت نہیں کرتا۔ وہ بے یقینی میں مبتلا ہونے کے باوجود یقین کا جھوٹا مظاہرہ کرتا رہتا ہے۔ پیش کی ہوئی بات کے مقابلے میں اس کی سطحی باتیں، مختلف وقتوں میں مختلف جواب، اصل اعتراضات کا مقابلہ کرنے کے بجائے غیر متعلق مسائل چھیڑنا، مخالف نظریے کی ناقص اور غلط ترجمانی کر کے اس کے اوپر تنقید کرنا۔ فریق ثانی کی بات خواہ کتنی ہی باوزن ہو اس کو اس طرح نظر انداز کرنا۔ گو یا وہ بالکل بے وزن بات ہے۔ مگر اندر اندر یہ بے چینی کہ کوئی مضبوط بنیاد ہاتھ آئے تا کہ اسے قطعیت کے ساتھ رد کیا جاسکے۔ یہ اور اس قسم کے دوسرے واقعات صاف بتا دیتے ہیں کہ اپنے موقف کے بارے میں اس کا یقین متزلزل ہو چکا ہے۔ حق کے شرارے اس کے دماغ کو چھوتے ہیں، مگر اس کا پندار

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader