قبول حق کی رکاوٹیں
Urdu book, p. 422
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کو قبولِ حق سے محروم رکھتا ہے۔ اس کا اندرون کہتا ہے کہ جس کی طرف سے یہ حق پیش کیا گیا ہے، میں اس سے زیادہ صاحبِ حیثیت ہوں۔ میری علمی برتری مُسَلّم ہے۔ میری اسلامی خدمات کی ایک دنیا قائل ہو چکی ہے۔ یہ احساسات اس کے اوپر گہرے کہر کی طرح چھا جاتے ہیں۔ آنکھ رکھتے ہوئے وہ اندھا بنا رہتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اگر حقیقت یہی ہے تو اس کی دریافت کا سب سے زیادہ مستحق میں تھا۔ مجھ کو سب سے پہلے اسے پانا چاہیے تھا۔ وہ حقیقت کو پانے کی بہترین حیثیت میں ہونے کے باوجود حقیقت کو پانے سے محروم رہ جاتا ہے۔ قرآن میں اس کو اندھے بہرے بن کر ٹوٹ پڑنا کہا گیا ہے۔ جب خدا کی آیتوں کے ذریعہ کسی کو یاد دہانی کرائی جائے تو اس کے جواب کی ایک صورت یہ ہے کہ آدمی اصل بات کو اس کی صحیح شکل میں سمجھے اور اس کی اصل حیثیت کے مطابق اس سے معاملہ کرے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ بات کے اصل پہلوؤں کو چھوڑ کر اس پر ادھر اُدھر سے حملے کیے جائیں۔ الل ٹپ جوابات اور غیر متعلق اعتراضات کے ذریعہ اس کا استقبال کیا جائے۔ پہلی صورت بات کو دیکھ سن کر اس سے اس کے مطابق معاملہ کرنا ہے، اور دوسری صورت کا مطلب یہ ہے کہ آدمی بات کے اوپر اس طرح ٹوٹ پڑا ہے، گویا وہ اندھا بہرا ہے اور اس نے اصل بات کو ابھی جاناہی نہیں۔ (الفرقان: 25:73) 5۔ قبولِ حق کی ایک رکاوٹ یہ بھی ہوتی ہے کہ آدمی کو یہ اندیشہ ہو کہ اس کو قبول کرنے کی صورت میں اس کا بنایا بنایا آشیانہ اجڑ جائے گا۔ یہ دنیا ایک ایسی جگہ ہے جہاں ہر فکر کے لیے گنجائش ہے جو تصور بھی زور وقوت کے ساتھ پیش کر دیا جائے، اس کے بہت سے ساتھی اور مددگار مل جائیں گے۔ اس طرح جب کوئی فکر ایک عرصہ تک چلتا رہتا ہے تو اس کا ایک مخصوص میدان بن جاتا ہے۔ اس کے گرد کچھ ذرائع و وسائل فراہم ہو جاتے ہیں۔ اس کے نام سے کچھ نئے نئے کاروبار پیدا ہوتے ہیں، جن سے بہت سے لوگوں کی معاشیات وابستہ ہوتی ہیں۔ کچھ نعرے وجود میں آتے ہیں، جن کی بنیاد پر کچھ لوگ علمی عزت اور سیاسی وقار حاصل کرتے ہیں۔ کچھ نئی نئی قدریں پبلک میں روشناس ہوتی ہیں، جن کا حامی اور مبلغ بن کر لوگوں کا تعاون حاصل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader