Urdu book · تعبیر کی غلطی

قبول حق کی رکاوٹیں

Urdu book, p. 423

By Maulana Wahiduddin Khan

کیا جاسکتا ہے۔ بہت سے لوگ اپنے اپنے مشاغل چھوڑ کر اس کے اندر اپنی زندگی کی تعمیر کرتے ہیں۔ پھر ان میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو ابتداﺀ تو بڑی جوش اور صلاحیت رکھنے والے تھے۔ مگر اب کی جوانیوں کو بڑھاپا آچکا ہوتا ہے۔ ان کے اندر اتنی سکت نہیں ہوتی کہ از سر نوکسی نئے میدان میں اپنی زندگی بنانے کی ہمت کر سکیں۔ ایسی حالت میں اگر حق کی آواز بلند کی جائے تو خدا کی دی ہوئی فطرت بہت سے لوگوں کے اندر اکساہٹ پیدا کرتی ہے۔ ان کی غبار آلود نگاہوں کے اندر حق کی روشنی جھلملاتی ہوئی نظر آتی ہے، کبھی کبھی جب انھیں آنکھ مل کر دیکھنے کی توفیق نصیب ہوتی ہے، تو انھیں نظر آنے لگتا ہے کہ بے شک حق یہی ہے، مگر معاشی مفاد اور دنیوی خطرات کا غلاف بہت جلد ان کی نگاہوں کو ڈھک لیتا ہے۔ ایک بنی بنائی زندگی اجڑ جانے کا اندیشہ شعوری یا غیر شعوری طور پر ان کی فکر کو اس طرح متاثر کرتا ہے کہ وہ اس سے قریب ہو کر اس سے بیزار ہو جاتے ہیں۔ وہ حق کو پانے کے باوجود محض اس لیے اس سے محروم رہنا گوارا کر لیتے ہیں کہ انھیں ڈر رہتا ہے کہ اس کو اختیار کرنے کی صورت میں وہ اپنی دنیا کو گنوا دیں گے۔ یہاں اتنی بات اور سمجھ لیجیے کہ یہ واقعہ عموماً غیر شعوری طور پر ہوتا ہے۔ اس لیے اکثر لوگوں کو یہ خبر بھی نہیں ہوتی کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ آدمی سمجھتا رہتا ہے کہ وہ جس چیز کو چھوڑ رہا ہے، اس کو اس نے محض اس لیے چھوڑا ہے کہ وہ اس کو غلط سمجھتا ہے۔ حالانکہ یہ محض اس کی قوت واہمہ کا فریب ہوتا ہے۔ لاشعور میں دبے ہوئے خطرات اس کی فکر کو اس طرح متاثر کر دیتے ہیں کہ وہ صحیح فیصلہ نہیں کر پاتا۔ اور ایک مجہول اور مصنوعی یقین کے تحت اپنی سابقہ روش پر قائم رہتا ہے۔ 6- حق سے محرومی کی ایک وجہ یہ ہے کہ آدمی زیادہ غور و فکر سے کام نہ لے اور محض ایک ”جواب“ دے کر اپنے آپ کو مطمئن کر لے کہ اس کا موجودہ مسلک درست ہے۔ آدمی بعض اوقات اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ کسی بات کی صداقت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page