Urdu book · تعبیر کی غلطی

قبول حق کی رکاوٹیں

Urdu book, p. 424

By Maulana Wahiduddin Khan

صرف اس وقت مسلم ہوتی ہے جب کہ اس کا سرے سے کوئی جواب ہی نہ ہو۔ جس بات کا جواب دیا جا سکے اس کا صداقت ہونا مشتبہ ہے ۔ یہ بہت بڑی بھول ہے۔ دنیا میں کوئی ایسی صداقت نہیں، جس کی تردید میں الفاظ کا ایک مجموعہ پیش نہ کیا جا سکتا ہو۔ مگر اس طرح کے لفظی مجموعوں کو جواب نہیں کہا جا سکتا۔ وہ جھوٹی تو جیھات ہیں، نہ کہ جواب۔ اگر ایک شخص کسی بات کو ماننا نہیں چاہتا تو آپ کسی بھی دلیل سے اسے منوا نہیں سکتے۔ آپ مضبوط ترین دلائل کا انبار اس کے سامنے رکھ دیں گے۔ مگر ہر دلیل کے جواب میں وہ ہمیشہ کچھ نہ کچھ باتیں تراش لے گا۔ اسی لیے قرآن نے ” جدل“ (بحث و تکرار ) کو قبول حق کے سلسلے میں ایک بہت بڑی رکاوٹ بتایا ہے: وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِي هَذَا الْقُرْآنِ لِلنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا (18:54)۔ یعنی، اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر قسم کی دلیلیں بیان کردی ہیں مگر انسان بہت زیادہ جھگڑالو واقع ہوا ہے۔ یقیناً میری ان معروضات کے سلسلے میں بھی بہت سی باتیں کہی جاسکتی ہیں لیکن اگر یہ باتیں وہی ہیں جواب تک میرے کان سن چکے ہیں تو ان باتوں کا جواب دینے کے لیے میرے پاس کچھ نہیں ۔ ایسے موقع پر میں اپنے ان الفاظ کو دہراؤں گا جو میں نے مخاطب سے نہیں، بلکہ خود اپنے آپ سے کہے تھے۔ اس کتاب میں جو باتیں میں نے لکھی ہیں ان کے بارے میں مجھے ایک اہلِ علم بزرگ سے تبادلہ خیال کا موقع ملا۔ انہوں نے جو جوابات دیے، ان کو سن کر بے ساختہ میرے دل نے کہا— ”اگر اس تعبیر کے حامیوں کے پاس میرے اعتراضات کا یہی جواب ہے تو بخدا میں حق پر ہوں“۔ 7۔ اور کوئی بات نہ ہو تو صرف یہ چیز بھی آدمی کو قبول حق سے روکنے کے لیے کافی ہے کہ اپنی جس فکر کو چھوڑ کر اسے دوسری فکر کو قبول کرنا ہے، اس کو مانتے ہوئے اس پر ایک عمر گزر چکی ہے۔ جب آدمی ایک خاص خیال کو لمبی مدت تک مانتا رہتا ہے تو اس سے وہ اس قدر مانوس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page