قبول حق کی رکاوٹیں
Urdu book, p. 425
By Maulana Wahiduddin Khan
ہو جاتا ہے کہ پھر اس کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ غلط بھی ہو سکتا ہے ۔ وہ اس کے لیے ایک ایسا عقیدہ بن جاتا ہے، جس کا صحیح ہونا اس بات پر موقوف نہیں ہوتا کہ اس کے حق میں اس کے پاس کوئی واقعی دلیل بھی موجود ہو۔ وہ اس کو اس طرح ماننے لگتا ہے گویا یہ اتنی واضح بات ہے کہ اس کے لیے کسی دلیل کی ضرورت ہی نہیں ، حتیٰ کہ اگر کوئی شخص واقعات و حقائق سے یہ ثابت کر دے کہ تمہارے مزعومہ عقیدے کے حق میں کوئی دلیل موجود نہیں ہے، جب بھی وہ اس کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتا ۔ اس طرح کا استدلال اس کو استدلال کے بجائے ”شیئِ عجیب‘‘ معلوم ہوتا ہے۔ ایسی ہی نفسیات تھی جس کے تحت پچھلی قوموں نے اپنے انبیاء کو ’’ساحر‘‘ کہا تھا۔ کچھ خاص خیالات کے درمیان طویل مدت تک رہنے کی وجہ سے وہ اس کو اس طرح ماننے لگتے تھے کہ نبی نے جب طاقتور استدلال کے ذریعہ ان خیالات کا غلط ہونا ثابت کر دیا، اور انہوں نے جان لیا کہ ہمارے پاس غیر متعلق باتوں کے سوا اس کا کوئی حقیقی جواب نہیں ہے۔ اس وقت بھی وہ اپنے آپ کو بدلنے کے لیے تیار نہیں ہوئے اور یہ کہہ دیا کہ یہ تو جادو گر ہے، جس نے اپنی قوت بیان سے ہم کو مغالطے میں ڈال دیا ہے ۔ ورنہ جو بات اتنے دنوں سے ہوتی چلی آئی ہو وہ بھی کہیں غلط ہو سکتی ہے۔ یہاں میں اٹلی کے مشہور مفکر گیلیو (Galileo) کا واقعہ نقل کروں گا۔ اس کا زمانہ سولہویں اور سترھویں صدی کے درمیان کا ہے۔ اس زمانے میں ارسطو کے افکار دنیا کی ذہنی فضا پر چھائے ہوئے تھے۔ ارسطو کا ایک خیال یہ تھا کہ اگر دو مختلف وزن کی چیزیں یکساں بلندی سے نیچے گرائی جائیں تو بھاری چیز ہلکی چیز سے پہلے زمین پر پہنچے گی ۔ یہ نظریہ طویل عرصہ گزرنے کے بعد اس قدر مسلم ہو چکا تھا کہ کسی کو اس کے خلاف سوچنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی تھی۔ گلیلیو پہلا شخص تھا جس نے اس کا انکار کیا اور یہ دعویٰ کیا کہ دونوں چیزیں بیک وقت زمین پر آئیں گی۔ سوا اس معمولی فرق کے جو ہوا کی مزاحمت (Resistance) کی وجہ سے پیدا ہو جاتا ہے ۔ وقت کے پڑھے لکھے لوگ گلیلیو کے اوپر ہنسے کہ وہ ارسطو جیسے عظیم مفکر سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader