قبول حق کی رکاوٹیں
Urdu book, p. 426
By Maulana Wahiduddin Khan
اختلاف کی جرأت کر رہا ہے۔ مگر گلیلیو کو اپنے نظریہ پر اصرار تھا، اس نے کہا کہ وہ اپنے دعوے کو تجربہ سے ثابت کر سکتا ہے۔ چنانچہ ایک صبح کو اس نے پیسا (Pisa) یونیورسٹی کے طلبہ اور اساتذہ کو وہاں کے ایک مینار (Leaning Tower) کے گرد جمع کیا اور خود مینار کے اوپر چڑھ گیا۔ اس کے ساتھ دو گولے تھے۔ ایک دس پاؤنڈ کا اور دوسرا ایک پاؤنڈ کا۔ اس نے دونوں گولے مینار کے کنارے رکھے اور دونوں کو ایک ساتھ زمین کی طرف لڑھکا دیا۔ دونوں گولے ساتھ ساتھ زمین پر گرے۔ اس کا دعویٰ صحیح ثابت ہو گیا۔ مزید تجربے اور مطالعے کے بعد گلیلیو نے زمین پر گرنے والے اجسام کے بارے میں تین ایسے خاص قوانین دریافت کیے جو اب اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھائے جاتے ہیں۔ اس نے مکمل طور پر ثابت کر دیا کہ وہ حق پر ہے اور ارسطو ناحق پر۔ مگر علما نے اس واضح حقیقت کو ماننے سے انکار کر دیا، جو ان کے اپنے مشاہدہ میں آ چکی تھیں۔ وہ اب بھی یہی سمجھتے رہے کہ ان کا مانوس نظریہ صحیح ہے، اور نو جوان گلیلیو نے ان کو محض ’’دلیل کے چکر‘‘ میں ڈال دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ آدمی جب اس نوبت تک پہنچ جائے کہ دیکھنے کے باوجود یقین کرنا اس کے لیے مشکل ہو تو ایسے آدمی کو کسی بھی دلیل سے مطمئن نہیں کیا جا سکتا۔ وہ تو اپنی مانوس دنیا ہی کو حقیقی دنیا سمجھے گا۔ خواہ اس کی مانوس دنیا محض ایک خیالی فریب ہو، جس کے لیے اس کے پاس ایک بھی واقعی دلیل موجود نہ ہو۔ 8۔ قبولِ حق کی ایک رکاوٹ یہ ہوتی ہے کہ آدمی اپنے ذہن کا ایک سانچہ بنا لیتا ہے۔ دھیرے دھیرے یہ سانچہ اتنا پختہ ہو جاتا ہے کہ اس میں کسی تبدیلی کا امکان نہیں رہتا۔ اس کے لیے صرف ایسی چیز قابل قبول رہ جاتی ہے، جو اس کے ذہنی سانچہ کو باقی رکھتے ہوئے اس کے اندر جگہ حاصل کر کے مطمئن ہو جائے۔ کوئی ایسا تصور جو اس کے ذہنی سانچہ کو توڑ کر اپنی جگہ بنانا چاہتا ہو، وہ اسے قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ اس پر غور کرنے کی ضرورت بھی نہیں سمجھتا۔ ایک شخص دنیا میں غرق ہو اور اس کے سارے امکانات سے فائدہ اٹھانا اپنی بہترین

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader