قبول حق کی رکاوٹیں
Urdu book, p. 427
By Maulana Wahiduddin Khan
کامیابی سمجھتا ہو۔ اس کو دین کا کوئی انقلابی تصور کبھی اپیل نہیں کرے گا۔ البتہ اگر اس سے کہا جائے کہ فلاں ”ذکر“ کا اتنا ثواب ہے، اور فلاں وقت میں اتنی رکعتیں پڑھ لینا سال بھر کے گناہوں کا کفارہ ہے، تو عین ممکن ہے کہ دین کا یہ تصور اسے پسند آجاۓ، اور اس کو ایک مقدس ضمیمے کی حیثیت سے وہ اپنی زندگی میں شامل کرلے۔ اسی طرح آپ ایسے لوگ دیکھیں گے جو دنیا کے آرام اور اس کی لذتوں میں لپٹے ہوئے ہوں۔ مگر اسی کے ساتھ اپنے روایتی ذہن کی بنا پر جنت میں بھی اپنا مقام رزرو (reserve) رکھنا چاہتے ہوں۔ انھیں اسلام کا یہ تصور بہت پسند آۓ گا کہ ”اسلام دنیا و آخرت کی کامیابی کا نام ہے“۔ اس کے برعکس، دین کا ایسا تصور انھیں کبھی پسند نہیں آسکتا جس میں رونا اور تڑپنا ہو، جو دنیا سے بے رغبتی سکھاتا ہو، جس میں غم کو مومن کی غذا بتایا گیا ہو۔ آپ ایسے لوگ دیکھیں گے جنھیں ذکر اور نماز سے کچھ زیادہ دلچسپی نہیں ہوگی، وہ تقویٰ اور خشوع کے الفاظ سے گھبرائیں گے۔ البتہ اس قسم کے عنوان پر وہ گھنٹوں تقریر کریں گے کہ ”اسلام سب سے بہتر نظام زندگی ہے۔ وہ تمام مسائل کا حل ہے۔ اس سے دنیا میں امن قائم ہوسکتا ہے“۔ اسی طرح جو لوگ اخباری فکر رکھتے ہوں، پیشہ ور لیڈروں کے چھیڑے ہوۓ مسائل جن کے نزدیک اہم ترین مسائل ہوں، جن کا ذہن سیاسی الٹ پھیر میں الجھا ہوا ہو، وہ دین کے لطیف حقائق میں کچھ دل چسپی نہیں لے سکتے۔ ایسی باتیں سن کر وہ نہایت آسانی سے کہہ دیں گے ــــ ”یہ تصوف ہے“، ”یہ شخصی ذوق ہے“، ”یہ انتہا پسندی کی باتیں ہیں۔“ اسی طرح ایک صورت یہ ہوتی ہے کہ اسلامی تحریک کے تنزل کے دور میں اس کے جو بچے کچھے آثار باقی رہ گئے ہوں، انھیں کو اسلام کی آخری اور مکمل صورت سمجھ لیا جاۓ۔ ایسے شخص کو اسلام کی کوئی ایسی تشریح متاثر نہیں کرسکتی جس میں زیادہ گہرے اور وسیع انداز میں دینی کام کا نقشہ بتایا گیا ہو۔ اس کا ذہن مسجد اور مدرسہ کی تعمیر میں اٹکا رہے گا۔ یا پھر کسی خانقاہی ادارے سے منسلک ہو کر وہ سمجھے گا کہ اس نے اپنی دینی ذمے داریوں کو آخری طور پر ادا کردیا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ کام غلط ہیں۔ اگر کوئی شخص اپنی طاقت اور اپنے حالات کا اندازہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader