Urdu book · تعبیر کی غلطی

قبول حق کی رکاوٹیں

Urdu book, p. 428

By Maulana Wahiduddin Khan

کرنے کے بعد دیانت دارانہ طور پر اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ وہ اتناہی کرسکتا ہے، اور اس میں وہ پوری طرح اپنے آپ کو لگتا ہے تو وہ میرے نزدیک اس سے بہتر ہے جو سماجی اور بین الاقوامی سطح پر دین کی شہادت کے لیے تو بہت بے قراری کا اظہار کرتا ہے، مگر اپنی ذات اور خاندان کی سطح پر دین کی شہادت دینے سے غافل ہے۔ حالانکہ وہ دوسری چیز اس کے لیے آج بھی ممکن تھی۔ 9۔ یہاں ایک بات اور قابلِ ذکر ہے کہ جس کا مجھے ذاتی طور پر تجربہ ہوا۔ زیرِ بحث تعبیر کے بالمقابل اسلام کا جو صحیح تصور مجھے قرآن میں نظر آتا ہے۔ اس کو پچھلے کئی سال سے میں اپنے مضامین میں پیش کرتا رہاہوں، ان مضامین کو ہمیشہ پسند کیا گیا۔ مگر اب یہ ”تعبیر کی غلطی“ کے عنوان سے میں نے جو تحریر مرتب کی ہے ۔ اس کو دیکھ کر وہی لوگ سخت متوحش ہوگئے جو اس سے پہلے میری تحریروں کو اپنے دل کی آواز کہا کرتے تھے۔ میں نے سوچا کہ اس کی وجہ کیا ہے ۔ کیوں کہ میرے نزدیک ان دونوں میں اس کے سوا کوئی فرق نہیں کہ پہلے جو بات غیر متعین شکل میں کہی جارہی تھی ۔ اسی کو اب تعین کے ساتھ پیش کر دیا گیا۔ جو بات پہلے قرآن و حدیث کی نسبت سے مثبت طور پر کہی جارہی تھی۔ اس کو اب ایک مخصوص اسلامی تشریح کی نسبت سے واضح کیا گیا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ اصل فطرت جس پر انسان کو پیدا کیا گیا ہے، وہ چوں کہ اپنی ساخت کے اعتبار سے صحیح دین کا طالب ہے۔ اس لیے دین حنیف کی غذا جب اس کے اندر اترتی ہے تو اس کا وجود اپنے آپ کو اس کے بالکل ہم آہنگ پاتا ہے۔ وہ اس سے اتفاق کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ مگر بعض اسباب سے ذہن کی ساخت چوں کہ بدل گئی ہے، اور شعور کی سطح پر آدمی فطرت اللہ کے خلاف کچھ دوسرے انداز سے سوچنے لگا ہے۔ اس لیے دین حنیف کے بارے میں اس کی فطرت کا یہ تاثر صرف اس وقت تک رہتا ہے جب تک وہ غیر شعوری طور پر اسے پارہا ہو۔ جہاں آپ نے صراحت کردی فوراً اس کا شعور مقابل میں آکر کھڑا ہو جائے گا۔ اور وہی بات جس کو وہ پہلے بالکل درست سمجھ رہا تھا۔ اب وہ اس کو زہر آلود نظر آنے لگے گی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page