Urdu book · تعبیر کی غلطی

قبول حق کی رکاوٹیں

Urdu book, p. 429

By Maulana Wahiduddin Khan

سبزی خوری کا عقیدہ رکھنے والا ایک شخص روزانہ پانی استعمال کرتا ہے اس کو پی کر اس کی روح پکار اٹھتی ہے کہ یہ عین وہی چیز ہے جس کی اسے ضرورت تھی ۔ وہ اس کو اپنی طلب کا صحیح ترین جواب سمجھتا ہے۔ لیکن اگر کسی روز وہ خورد بین سے دیکھے کہ پانی کے جس گلاس کو وہ اپنے اندر اتارنے جا رہا ہے اس میں لاکھوں زندگیاں رینگ رہی ہیں۔ تو جان کو حرام سمجھنے والے اس شخص کے ہاتھ سے گلاس چھوٹ کر گر پڑے گا۔ وہ اسی پانی کو ایک خوفناک چیز سمجھنے لگے گا۔ جس کو زندگی بھر بہترین نعمت سمجھ کر پیتا رہا تھا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ پانی کے بارے میں اس کی پیدائشی فطرت کا جو حقیقی احساس ہے، اس نے اپنے شعور کو اس سے مختلف بنا لیا۔ اس لیے پانی جب تک اس کے اس مصنوعی شعور سے اوجھل تھا، وہ اس کو انتہائی رغبت کے ساتھ استعمال کرتا رہا۔ مگر یہی حقیقت جب اس کے شعور کے سامنے آئی تو اس کے بگڑے ہوئے شعور نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کی ایک مانوس چیز اس کی ایک مبغوض چیز بن گئی— حالاں کہ دونوں میں اس کے سوا کوئی فرق نہیں کہ ایک ”پانی“ ہے اور دوسرا پانی کا خورد بینی تجزیہ۔ کہ دونوں کے اس کواوی کرے۔ میں نہ ایک پائی ہے اور نہ سراپا کا ورودی بر یہ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page