Urdu book · تعبیر کی غلطی

آخری بات

Urdu book, p. 430

By Maulana Wahiduddin Khan

آخری بات یہ تحریر تیار کر لینے کے بعد ایک روز میں اپنے ایک ساتھی سے اس کے متعلق گفتگو کر رہا تھا کہ میری زبان سے نکلا۔ ”جب میں سوچتا ہوں کہ یہ تحریر ایک روز چھپ کر لوگوں کے سامنے جائے گی تو مجھے شرم آنے لگتی ہے۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا میں خود اپنے آپ کو ننگا کر رہا ہوں“۔ یہ الفاظ جو میں نے اپنے عزیز ساتھی سے کہے تھے۔ یہی اس لمبی تحریر کے لیے میری طرف سے معذرت ہیں۔ طویل مدت کے درمیان میرے وہ رات اور دن کے لمحات، جو یقیناً خدا کے علم میں ہیں، وہ گواہ ہیں کہ اس قسم کی ایک تحریر مرتب کرنا میرے لیے خوشی کا کوئی واقعہ نہیں ہے۔ یہ کوئی ”حکایت لذیذ“ نہیں ہے جس کو میں نے درازی کے ساتھ بیان کیا ہو۔ بلکہ یہ دل کا درد ہے جو ضبط سے بے قابو ہو کر باہر نکل آیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر مجھے دو میں سے کسی ایک چیز کا اختیار دیا جاتا۔ ”جو خیالات تمہارے سینے میں امڈ رہے ہیں ان کو ظاہر کرنے کے لیے تم زندہ رہنا چاہتے ہو، یا یہ چاہتے ہو کہ اس دنیا ہی سے تمہیں اٹھا لیا جائے جہاں آدمی کے اوپر یہ فرض ہے کہ جو کچھ اسے حق نظر آئے اس کو وہ بے وکاست پیش کرے“۔ تو بلا شبہ میں دوسری صورت کو ترجیح دیتا۔ میرے لیے موت اس زندگی سے بہتر تھی جس میں مجھے یہ تلخ فریضہ انجام دینا پڑے کہ جن لوگوں کے ساتھ میں پچھلے پندرہ سال سے نہایت قریبی طور پر وابستہ رہا ہوں، ان کی نظریاتی اور عملی خامیوں کی بحث چھیڑوں۔ اگر الفاظ کے پاس زبان ہوتی تو بے شک وہ بولتے کہ یہ عام معنوں میں قلم اور سیاہی کا کوئی عمل نہیں ہے۔ بلکہ وہ پگھلے ہوئے جذبات ہیں جو ارادے کی دیوار کو توڑ کر اندر سے بہہ پڑے ہیں اور الفاظ کی صورت میں کاغذ کے اوپر پھیل گئے ہیں۔ یہ میرے خون اور میرے آنسوؤں کا ہدیہ ہے جس کو میں اپنے اندر سے آخری حد تک نچوڑ کر اپنے دوستوں کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔ یہ میرے ان غمگین خیالات کا بے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page