آخری بات
Urdu book, p. 431
By Maulana Wahiduddin Khan
تابانہ ظہور ہے جو پچھلے پانچ سال سے میرے رات اور دن کو برہم کیے ہوئے ہیں۔ آج حقیقت لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہو ، مگر وہ ہمیشہ اوجھل نہیں رہے گی ۔ بے شک وہ دن آنے والا ہے جب خدا کے فرشتے ظاہر ہو کر لوگوں کو بتائیں گے کہ کن جاں گداز حالات میں یہ صفحات ترتیب دیے گئے تھے۔ وہ دن ، جو یقیناً بہت جلد آنے والا ہے ، وہ اس طرح آئے گا کہ ہم میں سے ہر شخص رب العالمین کے سامنے کھڑا ہوگا ۔ اس دن حقیقت آخری حد تک بے نقاب ہو چکی ہوگی ۔ خوبصورت الفاظ اور حسین تو جیہیات کی دیواریں جو آج ہر شخص نے اپنے گرد کھڑی کر رکھی ہیں ، وہ اس روز ڈھ جائیں گی اور لوگ اس طرح ننگے ہو جائیں گے کہ درخت کے پتے بھی نہ ہوں گے جن سے وہ اپنے آپ کو چھپا سکیں ۔ مبارک ہے وہ جس کے لیے وہ دن ”سعی مشکور “ کی خوش خبری لے کر آئے ۔ اور بدنصیب ہے وہ جس کا ”دین “ اس روز ”قبول “ نہ کیا جائے ۔ اور خدا اس سے کہہ دے — ” تم جس بات کے لیے لڑ رہے تھے ، وہ محض تمہارے دماغ کی اپچ تھی۔ وہ میری بات ٹ کے | ی با دت | ہی نہیں تھی ۔“ |

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader