Urdu book · تعبیر کی غلطی

خط و کتابت مولانا صدر الدین اصلاحی

Urdu book, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

ان کے بارے میں نہ صرف یہ کہ کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا بلکہ سرے سے کچھ فرمایا ہی نہیں، اور اگر کچھ فرمایا تو یہ کہ میں نے یہ گزارشیں آپ کے سامنے رکھیں کیوں۔ رہی آپ کی حالیہ تجویز، جسے آپ نے تازہ خط میں تحریر فرمایا ہے، تو اس کے سلسلے میں یہ عرض ہے کہ اگر آپ اپنا مضمون شائع کر دینا چاہتے ہیں تو اس کا آپ کو اختیار ہے، جیسا مناسب سمجھیں کریں۔ مگر جہاں تک میری تحریر کا تعلق ہے اسے نہ شائع فرمائیں۔ یہ تحریر میں نے صرف آپ کے غور وخوض کے لیے لکھی تھی، نہ کہ عام لوگوں کے پڑھنے کے لیے، یہی وجہ ہے کہ اس میں جگہ جگہ نہایت اہم استدلالات کی طرف صرف اشارہ کر کے چھوڑ دیا تھا۔ اس توقع پر کہ آپ ان کی تفصیل خود سمجھ لیں گے۔ ظاہر ہے کہ عوام سے اس طرح کی کوئی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔ غرض میں نے اس تحریر کو اشاعت کا تصور سامنے رکھ کر لکھا ہی نہیں تھا۔ اس لیے آپ اس کو شائع فرمانے کا قصد نہ کریں۔ جب آپ کا مضمون چھپ جائے گا اس وقت جماعت اس مسئلے پر غور کرے گی کہ آیا اس کے جواب میں اسے بھی کوئی چیز پریس میں لانی چاہیے یا نہیں، جیسا کچھ مناسب سمجھا جائے گا، اس کے مطابق عمل کیا جائے گا۔ صدرالدین ﱞﱟﱠﱡمند اعظم گڑھ 19 جنوری 1963 ء محترمی مولاناصدرالدین صاحب سلام مسنون آپ کا خط مورخہ 12 جنوری ملا۔ آپ نے لکھا ہے کہ میں آپ کا جواب اپنی تحریر کے ساتھ شائع نہ کروں، اس کے جواب میں میں آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ 1951 ء میں مولانا ابواللیث صاحب امیر جماعت اسلامی ہند نے مولانا حسین احمد مدنی مرحوم سے خط و کتابت کی تھی، اس سلسلے میں مولانا مرحوم نے امیر جماعت کے خط کے جواب میں جماعت اسلامی کے خلاف ایک تفصیلی تحریر روانہ کی تھی۔ بعد کو یہ تحریر مولانا اعزاز علی صاحب مرحوم نے ”مکتوب ہدایت“ کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page