خط و کتابت مولانا صدر الدین اصلاحی
Urdu book, p. 45
By Maulana Wahiduddin Khan
نام سے شائع کردی۔ اس وقت مولانا ابو اللیث صاحب نے رسالہ زندگی میں اس پر ”شکوہ“ کا اظہار کیا کہ یہ تحریر تنہا کیوں شائع کردی گئی، اور اس کے ساتھ مولانا ابو اللیث صاحب کا جواب کیوں شامل نہیں کیا گیا۔ (زندگی جون، جولائی، اگست 1951ء، صفحہ 88)۔ مولانا حسین احمد صاحب کے اعتراضات اور اس کے بارے میں امیر جماعت اسلامی کے جوابات دونوں اگر ایک ساتھ ناظرین کے سامنے آتے تو ہر دو تحریروں کی روشنی میں پڑھنے والے کو زیادہ صحیح رائے پر پہنچنے میں آسانی ہوتی۔ چنانچہ اس کے بعد زندگی میں جب مولانا ابو اللیث صاحب کا جوابی خط چھپا تو اس کے ساتھ مولانا حسین احمد مدنی مرحوم کی تنقیدی تحریر بھی شائع کی گئی۔ (زندگی کا مذکورہ بالا شمارہ) اسی اصول کو اب میں اپنی تحریر کے سلسلے میں اختیار کرنا چاہتا ہوں تو آپ اس سے اختلاف کر رہے ہیں۔ آخر جو بات مولانا حسین احمد صاحب کے باب میں صحیح تھی، وہ میرے باب میں غلط کیوں ہو گئی۔ میری گزارش ہے کہ آپ اپنے خیال پر نظر ثانی فرمائیں، رہی یہ بات کہ آپ کے جواب میں جگہ جگہ نہایت اہم استدلالات کی طرف صرف اشارہ ہے، تو اس کا حل یہ ہے کہ آپ اپنی تحریر میں اس حیثیت سے نظر ثانی اور اضافہ فرمادیں۔ اس طرح وہ خلا پر ہو جائے گا، جو اس وقت آپ اپنے جواب میں محسوس کر رہے ہیں۔ خادم وحید الدین طویل انتظار کے بعد جب مولانا صدر الدین صاحب کی طرف سے میرے مذکورہ بالا خط کا کوئی جواب نہیں ملا تو میں نے جناب محمد فاروق صاحب (مقیم رامپور) کی وساطت سے انھیں یاد دہانی کرائی، اس کے جواب میں فاروق صاحب کی طرف سے ایک خط مورخہ 16 فروری 1963ء ملا جس میں حسب ذیل الفاظ درج تھے: ”مولانا صدر الدین صاحب کو میں نے آپ کا پیغام پہنچادیا ہے۔ مولانا کہہ رہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader