Urdu book · تعبیر کی غلطی

خط و کتابت مولانا صدر الدین اصلاحی

Urdu book, p. 46

By Maulana Wahiduddin Khan

تھے کہ میرا موقف اب بھی وہی ہے جو پہلے تھا۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے، اس لیے انھیں جواب دینے کی چنداں ضرورت محسوس نہیں ہوئی ۔ ہو سکتا ہے، اب وہ آپ کو لکھیں۔“ اس کے ٹھیک ایک مہینہ بعد مولانا صدر الدین کی طرف سے حسب ذیل خط موصول ہوا : رام پور 16 مارچ 63ء برادر مکرم السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ جناب فاروق احمد خاں صاحب کے ذریعہ آپ کو اپنی رائے سے مطلع کر چکا ہوں کہ میں اپنے سابقہ خیال میں کوئی تغیر نہیں پیدا کر سکا ہوں۔ مگر چوں کہ آپ کی فرمائش یہ ہے کہ آپ کو میں براہ راست جواب تحریر کروں۔ اس لیے یہ عریضہ بھی ارسال خدمت ہے۔ آپ نے اپنے گرامی نامہ میں جو دلیل تحریر فرمائی تھی وہ مجھے زیر بحث معاملے پر منطبق دکھائی نہیں دیتی۔ اس لیے پچھلے عریضے میں میں جو کچھ لکھ چکا ہوں، اسی پر اب بھی قائم ہوں، اور میں اسے ایک مناسب فیصلہ سمجھتا ہوں۔ ویسے اگر آپ اس سلسلے میں مزید گفتگو کرنا چاہیں تو پھر مرکز سے رجوع فرما سکتے ہیں۔ کیوں کہ میں نے آپ کے مضمون پر جو تبصرہ کیا تھا، وہ ذاتی حیثیت سے اور بطور خود نہیں کیا تھا جیسا کہ آپ کو بھی معلوم ہی ہے۔ بلکہ مرکز اور شوریٰ کی ہدایت پر کیا تھا۔ اس لیے اس بارے میں ضابطے کا فیصلہ بھی وہیں سے ہو سکتا ہے۔ اگر آپ وہاں سے اجازت حاصل کر لیں تو پھر ظاہر ہے کہ مجھے اعتراض کا کوئی حق باقی نہ رہ جائے گا۔ البتہ اتنی بات ابھی سے واضح رہنی چاہیے کہ اگر آپ کو یہ اجازت مل گئی تو اس شکل میں بھی آپ کو میری موجودہ تحریر ہی کے شائع کرنے پر اکتفا کرنا پڑے گا۔ اسے پھر سے مرتب کرنے اور آپ کے بدلے ہوئے مضمون کے مطابق بنا دینے کی خدمت میں انجام نہ دے سکوں گا۔ امید ہے کہ آپ مع متعلقین بخیریت ہوں گے۔ والسلام صدر الدین

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page