Urdu book · تعبیر کی غلطی

خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی

Urdu book, p. 52

By Maulana Wahiduddin Khan

نہ رہے جماعتی فکر پر تو اس کے لیے اچھی راہ یہ ہے کہ اس سے خاموشی کے ساتھ الگ ہو جائے اور اپنے پسندیدہ طریق پر دین کا کام کرے۔ رہی یہ صورت کہ وہ اس کی اشاعت کے لیے قلم سنبھالے، قلم کو تیر و نشتر بنائے اور میثاق نکالے، یہ راہ اچھی راہ نہیں ہے۔ اور میں مخلصانہ مشورہ آپ کو دیتا ہوں کہ یہ راہ آپ ہرگز اختیار نہ کریں۔ اس کا کل نقصان آپ کو پہنچے گا۔ رہے وہ لوگ جو آپ کے عقیدہ کے مطابق صمّ بكم عمی ہو چکے ہیں۔ وہ اپنی راہ پر چلتے رہیں گے، اِنَّکَ لا تَهْدِي مَنْ اَحْبَبْتَ (28:56) ۔ اگر چہ میری بتائی ہوئی راہ بہت مشکل ہے، مشکل اس وجہ سے ہے کہ آپ کا نفس آپ کو سوتے جاگتے ہر آن اکساتا ہوگا، آپ سے کہتا ہوگا کہ امر بالمعروف واجب ہے، حق بات کا اعلان واظہار واشاعت ضروری ہے، اگر تم ایسا نہ کروگے، اگر تم باطل کا لباس پہنے والوں کو ننگانہ کرو گے تو کتمانِ حق اور خیانت کے مجرم ہو گے اور پھر آپ کا نفس آپ کو پورے زور سے آخرت یاد دلاتا ہوگا کہ اس دن تو اپنے اس جرم کتمانِ حق پر خدا کے حضور کیوں کر اور کن الفاظ میں عذر خواہی کرے گا، آہ، آہ! — اس وجہ سے میری بتائی ہوئی راہ مشکل ہے۔ پر آپ یہی راہ اختیار کیجیے، لیکن اگر یہ آپ کے لیے بالکل قابلِ قبول نہیں تو پھر یہ سب سے آپ تبصرے کیوں لکھوارہے ہیں، اس صورت میں تو تحریر شائع ہونے کے بعد ہی تبصرے موزوں رہیں گے۔ مجھے آپ کے جواب کا شدت سے انتظار رہے گا۔ والسلام جلیل الحسن 🙘🙚🙘🙚🙘 پس نوشت: مکرر عرض ہے کہ مجھے آپ کے جواب کا انتظار رہے گا، بتائیے کیا یہ اطلاع صحیح ہے؟ نیز یہ کہ میرے مشورے پر غور کیجیے اور بتائیے کہ آپ کیا کرنے جا رہے ہیں، اگر دوسری راہ پر کار بند ہونا چاہیں تو آپ اپنے قلب کو گندا ہونے سے بچانہ سکیں گے۔ اور پھر آمنے کی راہیں بند ہو جائیں گی یہ راہ کھلی رہنی چاہیے! رام پور، 13 اگست 1962ء

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page