خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی
Urdu book, p. 53
By Maulana Wahiduddin Khan
محترمی ! سلام مسنون گرامی نامہ مورخہ 7 اگست ملا، آپ نے لکھا ہے ۔ " میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ اعظم گڑھ چلے آئیں اور پھر ہمارے آپ کے درمیان مراسلت ہو ، ہو سکتا ہے آپ پر اپنی تعبیر کی غلطی واضح ہو جائے ۔" میں آپ کے اس مشورہ کو قبول کرتا ہوں ۔ چنانچہ آج ہی میں امیر جماعت کو خط لکھ رہا ہوں کہ وہ مجھے رام پور سے اعظم گڑھ جانے کی اجازت دے دیں ۔ ان شاء اللہ، ان کا جواب آنے کے بعد جو صورت ہوگی اس پر عمل کروں گا ، اور اس کے مطابق آپ کو مطلع کر دوں گا۔ اب آپ سے گزارش ہے کہ اپنا کام شروع کر دیں ، جب میں نے آپ کا مشورہ مان لیا تو اب آپ کے اوپر میرا یہ حق ہو جاتا ہے کہ اپنے ضروری مشاغل کے سوا اپنے تمام اوقات کو میرے لیے خاص کر دیں ، کیوں کہ زندگی کا کوئی اعتبار نہیں ۔ کچھ نہیں معلوم کہ کب سننے والے کا وقت ختم ہو جائے اور کب سنانے والے کا۔ اگر کوئی گستاخی ہوئی ہو تو اس کے لیے مجھے معاف فرمائیں گے۔ خادم وحید الدین ❦❦❦❦❦ اس دوران میں جناب عبدالحئی صاحب (ایڈیٹر الحسنات ) نے بطورِ خود ایک خط مولانا جلیل احسن صاحب کو روانہ کیا، موصول کا یہ خط تو میں نے نہیں دیکھا، البتہ اس کا جو جواب آیا وہ انہوں نے مجھے دے دیا تھا، یہ جواب حسب ذیل ہے: خط بنام عبدالحئی صاحب چتر پور ، 18 اگست 1962ء مکرمی و محترمی ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ 1۔ میں نے 7 اگست کو جناب وحید الدین کے نام الحسنات کے پتہ پر کارڈ لکھا، سب سے پہلے آپ وہ کارڈ ان سے لے کر پڑھیں ، اس کا جواب 30 اگست کو انہوں نے یہ دیا:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader