Urdu book · تعبیر کی غلطی

خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی

Urdu book, p. 54

By Maulana Wahiduddin Khan

مکرمی و محترمی! سلام مسنون گرامی نامہ مورخہ 17 اگست ملا، آپ نے لکھا ہے ”میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ اعظم گڑھ چلے آئیں اور پھر ہمارے آپ کے درمیان مراسلت ہو، ہو سکتا ہے آپ پر اپنی تعبیر کی غلطی واضح ہو جائے ۔“ میں آپ کے مشورہ کو قبول کرتا ہوں ۔ چنانچہ آج ہی امیر جماعت کو خط لکھ رہا ہوں کہ وہ مجھے اعظم گڑھ جانے کی اجازت دے دیں، ان شاء اللہ، ان کا جواب آنے کے بعد جو صورت ہوگی اس پر عمل کروں گا، اور اس کے مطابق آپ کو مطلع کر دوں گا۔“ یہ ہے جناب وحید صاحب کا جواب، سوال یہ ہے کہ میرے کارڈ میں صرف یہی مشورہ تو نہ تھا، دوسرا ایک اور اہم سوال یہ تھا کہ ہم کو اطلاع ملی تھی کہ وہ اپنے مقالہ کو جلد شائع کرنے کے لیے بہت بیتاب ہیں۔ یہی نہیں بلکہ کوئی رسالہ نکالنا چاہتے ہیں، مگر سرمایہ فراہم ہونے کی کوئی شکل نظر نہیں آتی، ظاہر ہے اس سے مجھے تو وحش ہو؟ میں نے پوچھا کہ کیا یہ اطلاع صحیح ہے، اور یہ کہ آپ نے ایسی حالت میں دوراہوں میں سے کونسی راہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دونوں راہوں کی میں نے نشان دہی کی اور پھر بتایا کہ آپ کونسی راہ اختیار کریں۔ بہر حال آپ پہلے وہ کارڈ لے کر پڑھیں اور پھر مطلع ہوں کہ انہوں نے کارڈ کے سب سے اہم سوال کو اپنے جواب مورخہ 13 اگست میں بالکل نظر انداز کر دیا۔ اس سے متعلق کوئی نقطہ اور شوشہ تک ان کے جواب میں نہیں ہے، آخر کیوں، کیا یہ چیز آدمی کونیت میں شبہ کرنے کا جواز نہیں دیتی، یہ طریقہ اگر جان بوجھ کر انہوں نے اختیار کیا ہے تو اسے سیاسی بازی گری کہتے ہیں۔ اس سے انھیں بچنا چاہیے، یہ تقویٰ القلب کے منافی ہے میں آپ کی وساطت سے ان سے درخواست کرتا ہوں کہ اس اہم ترین خلش کے سلسلے میں کچھ کہیں جو بھی کہیں ضرور۔ انہوں نے آخر میں لکھا ہے کہ کوئی گستاخی ہوئی ہو تو اس کے لیے مجھے معاف فرمائیں گے۔ اس کے جواب میں عرض ہے کہ میں نے ہمیشہ اس کو اپنی تحقیر تصور کی ہے کہ آدمی میری

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page