Urdu book · تعبیر کی غلطی

خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی

Urdu book, p. 55

By Maulana Wahiduddin Khan

بات کا بطرز مستقیم جواب نہ دے، یا نظر انداز کر جائے اور اس کے جواب میں میرے سوال کا کوئی جواب نہ ہو۔ آپ جواب نہیں دینا چاہتے تو یہ کیوں نہیں لکھ سکتے کہ میں فلاں بات کا جواب نہ دوں گا۔ پھر میں سوچتا کہ مجھے متعلقہ معاملہ میں کیا کرنا چاہیے، لیکن میرے سوال کو بالکل تشنہ چھوڑنا اس کو ہمیشہ میں نے نیت تحقیر تصور کیا ہے۔ جناب وحید الدین خاں کو میرا سلام کہیے اور یہ کہ میرے اس کارڈ میں اگر کچھ تلخی آ گئی ہو تو واجب ہے ان پر کہ اس کا خیال نہ کریں۔ کیوں کہ یہ تلخی خود ان کی پیدا کردہ ہے۔ والسلام جلیل احسن ☙❦❧ رامپور، یکم ستمبر 1962ء محترمی مولانا جلیل احسن صاحب، عبدالحئی صاحب کے نام آپ نے خط لکھا ہے (مورخہ 18 اگست) اور ان کی وساطت سے مجھ سے یہ دریافت فرمایا ہے کہ میں آپ کی اس خلش کے بارے ضرور کچھ لکھوں جو میرے بارے میں آپ کو محسوس ہورہی ہے، وہ یہ کہ آپ کو اطلاع ملی ہے کہ میں اپنے مضمون کو جلد شائع کرنے کے لیے بہت بیتاب ہوں۔ یہی نہیں بلکہ کوئی رسالہ نکالنا چاہتا ہوں، مگر سرمایہ فراہم ہونے کی کوئی شکل نظر نہیں آتی۔ آپ کو میرے بارے میں اس خبر سے تو خوش ہورہا ہے۔ عرض ہے کہ جہاں تک مضمون کی اشاعت کا معاملہ ہے، اگر آپ کے جواب سے میرا اطمینان ہوگیا تو ظاہر کہ اس کی اشاعت کا کوئی سوال نہیں، لیکن اگر بالفرض ایسا نہیں ہوا تو آپ یا کوئی دوسرا شخص غالباً مجھے یہ مشورہ نہ دے گا کہ جس چیز کو ساری تلاش و تحقیق کے بعد بالآخر میں صحیح سمجھوں اس کو لوگوں پر ظاہر نہ کروں۔ دوسری بات یہ کہ ”میں رسالہ نکالنا چاہتا ہوں، مگر سرمایہ فراہم ہونے کی کوئی شکل نظر نہیں آتی، اس لیے رکا ہوا ہوں“۔ اس کے متعلق میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ یہ بالکل جھوٹ ہے۔ کوئی شخص بھی یہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page