Urdu book · تعبیر کی غلطی

خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی

Urdu book, p. 56

By Maulana Wahiduddin Khan

جرات نہیں کر سکتا کہ وہ قرآن ہاتھ میں لے کر گواہی دے کہ میری زبان سے اس نے یہ بات سنی ہے۔ یہ جھوٹ جس شخص نے گھڑا ہے، یقیناً اس کو مجھے بدنام کرنے کا شوق تو ضرور تھا، مگر اس نے عقل سے کام نہیں لیا۔ کیوں کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر میں رسالہ نکالنا چاہوں تو دوسری رکاوٹیں تو میرے لیے ہوسکتی ہیں مگر سرما یہ فراہم کرنے کی رکاوٹ ہرگز نہیں ہوگی۔ ان شاء اللہ العزیز۔ اصل تحریر کے سلسلے میں آپ کے مراسلہ کا انتظار ہے۔ وحیدالدین خادم

اس کے جواب میں مولانا جلیل احسن صاحب کی طرف سے حسب ذیل خط موصول ہوا۔ چتر پور ، 5ستمبر 1962 ء برادر مکرم السلام علیکم ورحمۃ اللہ آپ کا یکم ستمبر کا لکھا ہوا کارڈ ملا، آپ نے لکھا ہے کہ اگر میں آپ کو مطمئن نہ کر سکا تو: ”آپ یا کوئی دوسرا شخص غالباً مجھے یہ مشورہ نہ دے گا کہ جس چیز کو ساری تلاش و تحقیق کے بعد بالآخر میں صحیح سمجھوں اس کو لوگوں پر ظاہر نہ کروں۔“ نہیں، میں نے اسی صورت میں آپ کو مشورہ دیا تھا کہ آپ خاموشی کا راستہ اختیار کریں۔ جب اطمینان ختم ہو گیا تو خاموشی سے الگ ہو کر اپنے طور پر دین کا کام کریں، ورنہ کسی سے اطمینان ہو جانے کی صورت میں ایسا مشورہ دینے کے کوئی معنی نہیں۔ اور یہ جو مشورہ دیا تھا آپ سے تعلق خاطر کی بنا پر دیا تھا، اور اب بھی میرے پاس آپ کے لیے یہی مشورہ ہے۔ ورنہ جو لوگ اس حالت کو پہنچ گئے ہیں کہ ان کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے، ان کے بارے میں مجھے کوئی اندیشہ نہ تھا، جس کی وجہ سے یہ مشورہ دینا پڑا، اس پر غور کیجیے۔ رسالہ نکالنے کی بات یوں ہی شہر اعظم گڑھ میں کسی نے سنی اور برسبیل تذکرہ مجھ سے بیان کر دی ۔ میرا اذعان ہے کہ اس نے آپ کو بدنام کرنے کی غرض سے گھڑا نہیں ہے، تاہم اب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page