خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی
Urdu book, p. 57
By Maulana Wahiduddin Khan
میرا فراض ہے کہ تحقیق کے بعد میں اسے بتاؤں کہ یہ بات غلط ہے، اور اب کہیں یہ بات بر سبیل تذکرہ بھی زبان پر نہ آئے آپ عبدالحی صاحب کو میری یہ بات سنا دیں اور یہ کہ خط میں اس چیز کے ذکر سے قلب پر جو چیز ارتسام پذیر ہوئی اسے بالکل نکال دیں، کھرچ دیں اور کہیں کسی سے اس کا ذکر نہ کریں۔ برادرم ابوظفر! آپ میرے پاس درس میں بیٹھے ہیں، میرے پاس بیٹھ کر آپ نے ٹھیک اندازہ کر لیا ہوگا کہ میرے پاس نہ علم ہے، نہ فکر ہے، جب آپ مولانا صدر الدین اور دوسرے اصحابِ علم سے مطمئن نہ ہوئے، تو مجھ غریب کے پاس سے آپ کو یہ چیز کیوں کر مل سکتی ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ حصولِ اطمینان کے بہت سے شرائط ہیں۔ جن میں سے کچھ کا تعلق طالب سے ہے اور کچھ کا مطلوب سے، میرے بارے میں یہ جان لیجیے کہ میرے پاس علم نہیں ہے، اگر ہے تو بس اتنا کہ طلبہ کو کتا بیں، کچھ کتابیں پڑھا لیتا ہوں ۔ مجھے طالب علم جانے اور مجھے میری جگہ رکھ کر معاملہ لیجیے، خدا سے میرے لیے دعا کیجیے، جس طرح میں آپ کے لیے دعا کرتا ہوں۔ کیا پتہ کس وقت کی دعا کس کے حق میں نافع ہوجائے۔ آپ مجھ سے پوچھئے کہ مجھے کیوں یقین ہے کہ وحید صاحب کی اس صورت میں سخت پکڑ ہوگی۔ والسلام جلیل احسن
اس کے بعد موصوف کی طرف سے حسب ذیل سوالنامہ موصول ہوا۔ چترپور، 6 ستمبر 1962ء برادر مکرم! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ سورہ حدید آیت 25 کے بارے میں آپ نے جو کچھ سمجھا ہو، اس سے مستفید فرمائیں۔ سوالات حسب ذیل ہیں : 1۔ ”بینات “ سے کیا مراد ہے؟

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader