خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی
Urdu book, p. 58
By Maulana Wahiduddin Khan
”الكتاب“ کا مطلب کیا ہے؟ ”میزان“ کے یہاں کیا معنی ہیں؟ ”قامب“ کا ترجمہ کیا ہوگا؟ باب الحماسہ میں ایک شعر آیا ہے، اِذَا الْقَامَ بِنَصْرِي مَعْشَرٌ خُشُنٌ یہ قیام بالنصر کیا ہے؟ ”الناس“ سے سارے انسان مراد ہیں یا کوئی خاص گروہ؟ ”قسط“ کا مفہوم کیا ہے؟ ”لیقوم“ میں لام کیسا ہے؟ اس کے بعد ”انزال حدید“ کا ذکر کیوں آیا ہے؟ ”ويعلم“ کا عطف کس پر ہے؟ آپ کی آسانی کے لیے سوالات قائم کر دیے ہیں تا کہ وضاحت سے اس کا مفہوم آپ درج کر سکیں نیز آخری ٹکڑا کیوں آیا ہے؟ دوسری آیت سورہ بقرہ کی آیت نمبر 129 ہے۔ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے چار کام کیے گئے۔ سوال یہ ہے کہ یہ چار کام ہیں یا تین۔ مطلب یہ کہ آپ کے نزدیک تلاوت آیات، تعلیم کتاب اور تعلیم حکمت سے کیا مراد ہے، اور تزکیہ الگ سے کوئی چیز ہے یا انھیں تینوں کا ثمرہ ہے۔ اگر اسے کوئی نبی کی بعثت کا مقصد قرار دے تو آپ کو اس پر اعتراض ہے؟ اگر ہے تو آپ کے نزدیک صحیح تعبیر کیوں کر ہوگی۔ یہ فرمائیں کہ مترجمین ”لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ“ کا ترجمہ یوں کرتے ہیں ”تا کہ تم لوگوں پر گواہ ہو، یا لوگوں پر گواہ بنو۔“ مجھے جو اشکال ہے، وہ یہ کہ لوگوں کے اوپر گواہ بننے کا مطلب کیا ہے؟ یا تو لوگوں کا گواہ ہوگا، یا لوگوں کے خلاف گواہ ہوگا، پہلی شکل میں عربی میں ”ل“ آتا ہے اور دوسری صورت میں ”علیٰ“ آتا ہے اور یہاں ”علیٰ“ ہی ہے۔ اگر یہ بات صحیح

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader