خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی
Urdu book, p. 60
By Maulana Wahiduddin Khan
2-"کتاب" سے مراد "وحی" ہے جیسا کہ کشاف نے لکھا ہے۔ 3-"میزان" کی تشریح میں خازن نے لکھا ہے یعنی العدل ای وامرنا بالعدل 4-"لیقوم الناس بالقسط" کا ترجمہ جیسا کہ مترجمین نے کیا ہے، یہ ہوگا: • تاکہ لوگ قسط پر قائم رہیں۔ • تا عمل کنند مردماں بانصاف (شاہ ولی اللہ صاحب) • لیبتعا ملوا بینھم بالعدل (خازن) 5- مذکورہ شعر میں قیام بالنصر کا مطلب مصیبت کے وقت مدد کے لیے پہنچنا ہے دوسرے لفظوں میں مدافعت۔ 6-"الناس" سے مراد عام انسان ہیں، بظاہر تخصیص کا کوئی قرینہ یہاں نظر نہیں آتا۔ 7-"قسط" کا مطلب انصاف ہے امام رازی کے الفاظ میں وَهُوَ أَنْ تُعْطِيَ قِسْطَ غَيْرِكَ كَمَا تَأْخُذُ قِسْطَ نَفْسِكَ (تفسیر کبیر، جلد 8 ، صفحہ 101)۔ 8-"لیقوم" میں لام غایت کی ہے، یہی سمجھ میں آتا ہے۔ 9-"انزال حدید" کے ذکر کی وجہ اس کے بعد کے الفاظ پر غور کرنے سے سمجھ میں آتی ہے، یعنی وقت قتال اس سے "قوت" ملتی ہے اور اسی طرح دوسری ضرورتوں میں وہ انسان کا بہترین مددگار ہے۔ 10-"وليعلم" کا عطف جلالین میں لیقوم الناس پر بتایا ہے، انزال حدید پر بھی اس کا عطف مان سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں ایک فقرہ محذوف ماننا ہوگا، یعنی لِيَسْتَعْمِلُوهُ وَلِيَعْلَمَ الله . . . (تفسير ابو السعود، جلد 8، صفحہ 212)۔ میرے خیال سے دونوں ہی لیے جاسکتے ہیں۔ 11۔ "آخری ٹکڑا کیوں آیا ہے" یہ اس مطلوب الہی کا اظہار ہے کہ جب نبی اور اس کے مخالفین میں کشمکش ہو تو اہل ایمان کا فرض ہے کہ وہ دشمنان رسول کے مقابلے میں رسول کا ساتھ دیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader