خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی
Urdu book, p. 61
By Maulana Wahiduddin Khan
سورہ البقرۃ آیت 129 1۔ جب قرآن نے چار الگ الگ الفاظ استعمال کیے ہیں تو غالب قرینہ یہی ہے کہ اس سے چار مختلف کام مراد ہوں۔ 2۔ ان چاروں الفاظ کی تشریح میں علامہ آلوسی نے جو کچھ لکھا ہے، اس سے مجھے اتفاق ہے، (روح المعانی، جلد 1، صفحہ 87-386)۔ 3۔ اگر کوئی شخص اس کو نبی کی بعثت کا مقصد قرار دے تو مجھے اس پر اعتراض نہیں۔ لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ (2:143) شَهِدَ بِصِلَةِ لَامٍ وَشَهِدَ بِصِلَةِ عَلٰی میں جو فرق آپ نے بتایا ہے وہ عمومی استعمال کے لحاظ سے صحیح ہے مگر حصر درست نہیں۔ عَلٰی کا صلہ کبھی مجرد شہادت کے موقع پر بھی استعمال ہوتا ہے، خواہ وہ خلاف ہو یا موافق (شَهِدَ فُلانٌ عَلٰی فُلانٍ بِحَقٍّ، فَهُوَ شَاهِدُ، لسان العرب) اگرشہد عَلٰی میں اس عموم کو تسلیم کر لیا جائے تو اردو مترجمین نے جو ترجمہ کیے ہیں ان پر وہ اعتراض واقع نہیں ہوتا جس کا آپ نے اپنے خط میں ذکر فرمایا ہے۔ خادم وحید الدین ❧❧❧❧❧ اس کے بعد موصوف کا دوسرا سوال نامہ ملا۔ یہ سوال نامہ بھی مجرد قسم کے سوالات پر مشتمل تھا، اور اس میں میری اس درخواست کا کوئی لحاظ نہیں کیا گیا تھا کہ زیرِ بحث مسئلہ سے تعلق کو واضح کرتے ہوئے اپنے سوالات ارسال فرمائیں۔ “سوال نامہ کی نقل حسب ذیل ہے: برادر مکرم! سلام و رحمت آپ کا گرامی نامہ مورخہ 9 ستمبر، مجھے 17 کو ملا۔ آپ نے میرے عریضہ مورخہ 6 ستمبر کے ساتھ میرے احساس کے مطابق انصاف نہیں کیا۔ میں نے شروع میں عرض کر دیا تھا کہ (سورہ) حدید (آیت نمبر) 25 کے بارے میں جو کچھ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader