Urdu book · تعبیر کی غلطی

خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی

Urdu book, p. 62

By Maulana Wahiduddin Khan

آپ نے سمجھا ہو اس سے مستفید فرمائیں، پھر میں نے سوالات قائم کیے اور آخر میں لکھا کہ آپ کی آسانی کے لیے یہ سوالات قائم کر دیے ہیں تا کہ وضاحت سے آپ اس کا مفہوم درج کر سکیں، لیکن آپ نے ان سوالات کو اصل قرار دے کر ان کے جوابات رقم فرمائے، آیت کی تفسیر نہیں لکھی ( کس قدر عجیب بات ہے کہ مولانا خود تو سوالات پر اکتفا کر رہے ہیں اور مجھ سے تفسیر کا مطالبہ کر رہے ہیں، مرتب )۔ خیر ان جوابات سے جو سوالات ابھرتے ہیں وہ اور کچھ نئے سوالات ارسال خدمت ہیں۔ 1۔ بینات سے آپ کے نزدیک حج اور معجزات مراد ہیں، حج سے مراد دلائل رسالت، دلائل توحید اور دلائل معاد یا کچھ اور؟ میرے مطالعہ کے مطابق اہل تفسیر حج سے دلائل ثلاثہ ہی مراد لیتے ہیں، لیکن متعین طور پر اس کے لیے حوالہ ذہن میں نہیں ہے۔ 2۔ اگر حج سے مراد وہ حصہ وحی ہو جو دلائل سہ گانہ پر مشتمل ہے تو کتاب سے وحی کے بقیہ کل حصے ۔ احکام و قصص وغیرہ مراد ہوں گے یا کوئی خاص حصہ؟ 3۔ میزان سے آپ کے نزدیک عدل مراد ہے اور آپ نے مفہوم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا: إنی أُمِرْتُ بالعدل اس کا مطلب میں یہ سمجھتا ہوں "ہم نے رسولوں کو حکم دیا کہ تم لوگ عدل کرنا کسی کے ساتھ نا انصافی نہ کرنا، کیا آپ کا مدعا یہی ہے یا کچھ اور؟ 4۔ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ کا ترجمہ "تا کہ لوگ قسط پر قائم رہیں" سمجھ میں نہیں آتا ہے۔ کسی چیز پر قائم رہنے کے لیے عربی میں صلہ علی آتا ہے با نہیں آتا۔ "قام بالامر" کا ترجمہ تولاہ سے کرتے ہیں اور تولی کے معنی کسی چیز پر قائم رہنے کے آتے ہیں یا کچھ اور؟ ذرا نصوص معاجم دیکھیے، یہاں تو دیکھنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ 5۔ سورہ بقرہ آیت 129 کے ذیل میں حسب تشریح آلوسی وہ چار کام کیا ہیں، اب تو آپ اعظم گڑھ آگئے آلوسی تو شبلی منزل کے سوا اور کہیں نہیں ملے گی، اب آپ حسب تشریح قرآن، نہ کہ آلوسی ان چاروں کاموں کی تعین فرمائیے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page