خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی
Urdu book, p. 64
By Maulana Wahiduddin Khan
نے جو سوالات کیے تھے، ان کا جواب لکھ کر آپ کی خدمت میں روانہ کر دیا۔ اب یہ دوسرا سوالنامہ جو آیا ہے، وہ بھی بعینہ اسی قسم کا ہے، میں اب بھی شاید اپنے کو اس کے لیے تیار کر لیتا کہ میرے نقطہ نظر سے یہ طریقہ ناموزوں یا غیر متعلق سہی، بہر حال آپ جو کچھ پوچھتے جائیں اس کا جواب روانہ کرتا رہوں۔ مگر پہلے سوال نامہ کا جواب بھیجنے کے بعد مجھے امیر جماعت کے اپنے ہاتھ کا لکھا ہوا ایک خط اتفاق سے دستیابی ہو گیا جنہوں نے ایک مرکزی شخصیت کے نام لکھا تھا، اس خط میں آپ سے میری خط و کتابت کے بارے میں یہ الفاظ درج تھے: "مولانا جلیل احسن نے بھی (وحید الدین خاں سے ) مراسلت شروع کر دی ہے، لیکن مجھے اول تو یہ امید نہیں کہ خاں صاحب ان کے طرز یا طریق مراسلت کی تاب لاسکیں گے،..... بہر حال میں نے جلیل احسن صاحب کو لکھ دیا ہے کہ جو کچھ ان کو پڑھانا لکھانا ہے جلد اس سے فارغ ہو جائیں،....." اس اقتباس کا آخری فقرہ میرے لیے سخت تکلیف دہ ثابت ہوا۔ اس کو سامنے رکھ کر جب آپ کے "سوالات" کو دیکھتا ہوں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ واقعی مجھ کو "پڑھایا لکھایا" جا رہا ہے۔ میں افسوس کے ساتھ عرض کروں گا کہ براہ کرم یہ پڑھانے لکھانے کا انداز چھوڑ کر اصل مسئلہ کے بارے میں جو آپ کا نقطہ نظر ہو، اور اس سے متعلق جو دلیل آپ رکھتے ہوں، اس سے مجھے مطلع فرمائیں تاکہ اس کی روشنی میں زیر بحث مسئلہ پر غور کیا جا سکے۔ خادم وحید الدین
میرے اس خط میں چونکہ مولانا ابواللیث صاحب کے ایک خط کا حوالہ تھا، اس لیے اس کے بعد مولانا جلیل احسن صاحب نے مولانا موصوف کو خط لکھ کر اس کے بارے میں دریافت کیا، چنانچہ مولانا ابواللیث صاحب کی طرف سے میرے نام حسب ذیل خط موصول ہوا: دہلی، 2 اکتوبر 1962ء

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader