Urdu book · تعبیر کی غلطی

خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی

Urdu book, p. 65

By Maulana Wahiduddin Khan

برادر عزیز! السلام علیکم آج مولا نا جلیل احسن صاحب کا ایک خط موصول ہوا ہے، جس سے یہ معلوم ہوا ہے کہ آپ نے میرے خط کا حوالہ دیتے ہوئے ان سے یہ خواہش کی ہے کہ پڑھانے لکھنے کا انداز چھوڑ کر وہ اصل مسئلہ کے بارے میں اپنا نقطہ نظر آپ کو لکھ دیں۔ یہ تو انہوں نے نہیں لکھا ہے کہ وہ ایسا کر سکیں یا نہیں، لیکن میرا اندازہ ہے کہ وہ مسئلہ زیر بحث کی تحقیق کے لیے اپنے طریق مراسلت ہی کو مفید سمجھتے ہیں اور اسی کے لیے وہ اصرار کریں گے۔ اس لیے اگر واقعی آپ مسئلہ کی تحقیق میں ان کے خیالات سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں تو آپ کو ان کے ساتھ مراسلت کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے، رہی پڑھانے لکھنے والی بات جس کی وجہ سے آپ ان کے ساتھ مراسلت سے کچھ بدل سے ہو گئے ہیں تو مجھے امید ہے کہ کل میں نے آپ کے تازہ خط کے جواب میں جو تحریر بھیجی ہے اس سے ان شاء اللہ اس لفظ کے بارے میں آپ کی غلط فہمی دور ہو گئی ہوگی۔ (یہ خط امیر جماعت کی خط و کتابت میں شامل ہے) مولانا جلیل احسن صاحب نے اپنے خط میں ایک بات یہ بھی لکھی ہے کہ انہوں نے جو سوالات آپ کے پاس بھیجے ہیں وہ قطعاً غیر متعلق نہیں ہیں، نہ پہلے سوال نامہ کے اور نہ دوسرے کے، تا ہم ان کا متعلق ہونا واضح نہ ہو تو اس بارے میں آپ ان سے دریافت کر سکتے ہیں۔ جواب بنام مولانا ابو اللیث صاحب

اعظم گڑھ، 24 اکتوبر 1962ء محترمی سلام مسنون گرامی نامہ مورخہ 20 اکتوبر 1962ء ملا۔ مولانا جلیل احسن صاحب کے طریق مراسلت کے سلسلے میں ”پڑھانے لکھنے کا لفظ جو آپ کے خط میں آیا ہے وہی میری بددلی کی اصل وجہ نہیں ہے میرا اعتراض دراصل یہ ہے کہ وہ بالکل مجرد قسم کے سوالات کر رہے ہیں، حالانکہ جب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page