Urdu book · تعبیر کی غلطی

خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی

Urdu book, p. 67

By Maulana Wahiduddin Khan

اِس دوران میں مولانا جلیل احسن صاحب کی طرف سے حسب ذیل خط ملا۔ چھتر پور، 16 ستمبر 1962 ء برادر من! السلام علیکم ورحمۃ اللہ 1۔ میں نے تو لکھ دیا تھا کہ میں سوالات کروں گا۔ اب بھی میں اپنے طریق مراسلت پر مصر ہوں، ہر شخص سے مراسلت کے طریقے جدا ہوتے ہیں، میں نے آپ کی تحریر پڑھ کر اندازہ کیا تھا کہ اس پر میں کیوں کر گفتگو کروں گا۔ جو چیز اتنے طنطنے کے ساتھ پیش کی جارہی ہے، اس پر زبانی گفتگو قطعاََ مناسب ہے۔ اور جن لوگوں نے آپ سے گفتگو کی انہوں نے اچھا نہیں کیا۔ اِس لیے جب یہ سوال آیا آپ کے بعض احباب کی طرف سے اور بعد میں آپ کی طرف سے تو میں نے کہہ دیا کہ تحریری گفتگو ہی مناسب ہوگی۔ 2۔ پھر امیر جماعت نے فرمایا، اس کا بھی جواب یہی کہ مراسلت کے ذریعہ ہی کچھ ہو سکتا ہے، اور اس میں بھی وہ یہ چاہتے تھے کہ بس دو چار گھنٹے میں کچھ لکھ دیا جائے ۔ چنانچہ میرے طریق مراسلت پر انہوں نے کہا، اچھا اب مدرسہ کھلے گا۔ پڑھائی لکھائی ہوگی۔ یہ تو بہت دیر طلب بات ہے اور ادھر وحید صاحب کی بے تابی گویا نکلے ہے دم شمشیر کا۔ پھر انہوں نے دہلی سے تحریر آہی فرمایا کب تک پڑھائی لکھائی ہوتی رہے گی، یہ دراصل میرے اوپر طنز ہے، لیکن جب آدمی الفاظ کے پس منظر سے واقف نہ ہو تو الفاظ اسی طرح فتنے بنتے ہیں۔ (پڑھانے لکھانے والے فقرہ کی تشریح جو یہاں مولانا جلیل احسن صاحب نے کی ہے، وہ اس سے مختلف ہے جو مولانا ابو اللیث صاحب نے کی ہے)۔ خلاصہ یہ کہ میں اپنے طریق مراسلت پر مصر ہوں ۔ اور وہ طریقہ جو دوسروں نے اختیار کیا وہ آپ کے لیے مضر اور ان کے لیے لاحاصل ہیں۔ آپ جانتے ہیں میں پڑھانے لکھانے ہی کا کام کرتا ہوں یہ پڑھانے لکھنے کا انداز کیوں کر چھوڑوں، اس سے آپ کے فکرِ رفیع اور علم کبیر کے احساس کو چوٹ لگتی ہے تو افسوس ہے۔ زیرِ بحث مسئلہ پر غور کرنے اور کرانے کا بالخصوص آپ کے لیے میرے پاس یہی راستہ ہے جسے آپ نے پڑھانے لکھنے کا نام دیا ہے، اور جسے آپ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page