خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی
Urdu book, p. 68
By Maulana Wahiduddin Khan
پسند نہیں کرتے تو چشم ماروشن دل ماشاد! اس سے پہلے آپ میرے ”پڑھانے لکھانے“ پر تو متوحش نہیں ہوتے تھے، اب کیا سب کچھ آپ پڑھ لکھ گئے؟ جلیل احسن
اعظم گڑھ، 25 اکتوبر 1962ء محترمی سلام مسنون آپ کا خط مورخہ 16 ستمبر 1962 ء ملا۔ مجھے شکایت ہے کہ آپ کا انداز کچھ ان لوگوں کا سا ہو گیا ہے جو اپنے آپ کو بالکل نہیں دیکھتے، البتہ دوسرا شخص انھیں سرتاپا غلط نظر آتا ہے۔ 1۔ آپ کو میری تحریر پہلی بار فروری 1962ء کے پہلے ہفتے میں رام پور میں عبدالحیٰ صاحب کی معرفت ملی تھی۔ اس وقت اس کو دیکھنے کے بعد عبدالحیٰ صاحب سے آپ نے یہ جملہ کہا تھا کہ اس تحریر کو پڑھ کر میں سخت کبیدہ خاطر ہوا۔ مگر میرے دریافت کرنے کے باوجود آپ نے اپنی اس کبیدگی کی تفصیل نہیں بتائی۔ اس کے بعد مارچ 1962ء کے دوسرے ہفتہ میں میں نے دوبارہ تحریر کی ایک نقل آپ کے نام مدرسہ الاصلاح کے پتہ پر روانہ کی، اس وقت بھی آپ نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ بلکہ یہ غیر متعلق عذر کر کے اس کو واپس کر دیا کہ یہ تحریر کا ”آخری مسودہ“ نہیں ہے۔ پھر تیسری بار میں نے 21 جولائی 1962ء کو چتر پور کے پتہ پر آپ کے نام تحریر بھیجی۔ مگر ابھی تک اصل مسئلہ کے بارے میں ایک جملہ بھی آپ کی طرف سے مجھے موصول نہیں ہوا۔ اس طرح آپ سے سلسلہ چھیڑے ہوئے پورے 9 مہینے ہو گئے، مگر کس قدر حیرت کی بات ہے کہ اتنے دنوں سے آپ اپنے خطوط میں یہ ثابت کرنے کی تو پیہم کوشش کر رہے ہیں کہ میرا طریقہ ”طالبین حق کا طریقہ“ نہیں ہے، میں ”بے صبر“ ہوں، مجھے اپنے بارے میں ”مومن کامل“ ہونے کی غلط فہمی ہے۔ میں تحریر شائع کرنے کے لیے ”بیتاب“ ہوں، میرا ”نفس“ مجھ پر حاوی ہو گیا ہے، میں ”سیاسی بازی گری“ کر رہا ہوں، میری نیت میں شبہ ہے، میں آپ کی ”

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader