خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی
Urdu book, p. 69
By Maulana Wahiduddin Khan
حقیر" کا مرتکب ہوا ہوں، مجھے اپنے بارے میں" فکر رفیع اور علم کبیر" کا گمان ہے، وغیرہ۔ مگر اصل مسئلہ جس کے بارے میں آپ سے میں نے رجوع کیا ہے، اس کے متعلق اس پوری مدت میں ایک فقرہ بھی آپ نے نہیں لکھا۔ تا کہ اس کے بارے میں میری غلطی مجھ پر واضح ہوتی۔ 2۔ آپ نے فرمایا تھا کہ میں تمہارے طویل مقالہ" کو پڑھ کر سوالات کروں گا، توضیح مدعا کا طالب ہوں گا، دلائل پر گفتگو کروں گا۔ میں اس کے لیے بالکل راضی تھا، مگر جب ایک شخص واضح طور پر ایک بات کسی کے سامنے رکھ رہا ہو اور وہ اس پر تبصرہ کرنے کے لیے مندرجہ بالا شرط پیش کرے تو ہر شخص اس کا مطلب یہی سمجھے گا کہ مدعی کے دلائل کے بارے میں سوالات ہوں گے۔ اس کے استنتاج کی کمزوریاں واضح کی جائیں گی۔ مگر جب آپ کا سوال نامہ آیا تو میں نے دیکھا کہ اس میں بالکل مجرد قسم کے سوالات ہیں جن میں اصل مسئلہ نفیاً یا اثباتاً بالکل کوئی تعلق ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔ اب جو میں نے اس طریق مراسلت کے غیر متعلق اور نامناسب ہونے کا ذکر کیا تو آپ کا یہ خط مورخہ 16 ستمبر موصول ہوا ہے جس میں گویا یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ آپ تو صحیح ترین شکل میں مجھے سمجھانے کے لیے پوری طرح آمادہ ہیں، مگر میں خود ہی سمجھنا نہیں چاہتا۔ 3۔ عبدالحئی صاحب کے نام خط میں آپ نے لکھا تھا کہ میں نے آپ کی " تحقیر" کی ہے، حالاں کہ یہ بالکل غلط ہے، میرے جس خط کے بارے میں آپ نے یہ بات لکھی تھی، مجھے یقین ہے کہ کوئی بھی تیسرا شخص اس کو دیکھنے کے بعد آپ کی رائے سے اتفاق نہیں کر سکتا۔ دوسری طرف آپ کے طنز و تحقیر کا یہ عالم ہے کہ اگر میں اس کے اقتباسات یہاں نقل کروں تو خط بھر جائے ۔ ذرا اپنے ان جملوں پر غور کیجیے: " آخر آپ اتنے بے صبرے کیوں ہو گئے ، کیا بے صبری " مومن کامل" کی صفات میں سے صفت اول ہے" (خط مورخہ 25 جولائی 62ء) آپ جانتے ہیں میں " پڑھانے لکھانے" ہی کا کام کرتا ہوں۔ یہ انداز کیوں کر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader