دیباچہ طبع ثانی
Urdu book, p. 6
By Maulana Wahiduddin Khan
تردید شائع کروں۔ کیوں کہ میرے نزدیک یہ ساری بحث بالکل غیر متعلق ہے۔ اس کے جواب میں موصوف کا خط آیا جس میں انہوں نے اس سے انکار کیا کہ انہوں نے تفہیم القرآن کے مذکورہ حواشی میں میری کتاب کا جواب دیا ہے۔ میرے نزدیک یہ صرف علمی کم ہمتی تھی کہ مولانا ابو الکالی مودودی نے اس بات کا اقرار نہیں کیا کہ انہوں نے اَقِيمُوا الدِّينَ (42:13) کی تشریح میں میرے اعتراضات کا جواب دیا ہے۔ تاہم ایک دستی ذریعہ سے میں نے اپنی کتاب ”الاسلام“ بھیج دی تھی جو مولانا مودودی کے خط مورخہ 5 فروری 1979ء کے مطابق ان کی زندگی میں انھیں مل گئی۔ البتہ زیر بحث فکر کے اصاغر میں سے بعض لوگوں نے اس کے جوابات شائع کیے۔ ان میں سے ایک جناب عامر عثمانی صاحب (وفات 1975ء) تھے۔ انہوں نے تعبیر کی غلطی کے اصل علمی اعتراضات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ البتہ اپنے مخصوص مذاق کے مطابق تعبیر کی غلطی کے مصنف کا استہزاء کر کے یہ ظاہر کرنا چاہا کہ وہ اس قابل ہی نہیں کہ ان کا جواب دیا جائے ۔ جناب عامر عثمانی صاحب کا یہ طویل مضمون ان کے ماہنامہ تجلی میں 1965ء کے آغاز میں چھپا تھا۔ اس کے جواب میں میں نے ایک مضمون بعنوان ” تنقید یا مسخرہ پن“ لکھا۔ یہ مضمون اولاً ماہنامہ نظام (کانپور) میں دسمبر 1965ء میں چھپا اور اس کے بعد بعض دوسرے جرائد میں نقل کیا گیا۔ اس مضمون میں خالص علمی انداز میں جناب عامر عثمانی صاحب کی باتوں کا بے بنیاد ہونا واضح کیا گیا تھا۔ ”تنقید یا مسخرہ پن“ ایک کتابی مجموعہ میں الگ سے شائع کیا جا رہا ہے جس کا نام ہے — جائزے ۔ میرے اس مضمون کی اشاعت کے بعد جناب عامر عثمانی صاحب اس موضوع پر بالکل خاموش ہوگئے۔ اس کے بعد بھی اگر چہ وہ دس سال تک زندہ رہے، مگر پھر کبھی انہوں نے تعبیر کی غلطی کے مباحث پر براہ راست اظہار خیال نہیں کیا۔ غالباً ان کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا تھا۔ چنانچہ انہوں نے تجلی کے حاصل مطالعہ نمبر (اگست 1966ء) میں اس کی تلافی فرمائی۔ اس نمبر میں مولانا ابو الکالی مودودی سمیت بہت سے بڑے بڑے مصنفین کا تذکرہ تھا۔ مگر اس نمبر کا سب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader