Urdu book · تعبیر کی غلطی

دیباچہ طبع ثانی

Urdu book, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

سے پہلا اور سب سے نمایاں مضمون وہ تھا جو راقم الحروف کے بارے میں تھا۔ جناب عامر عثمانی صاحب نے میری کتاب ”مذہب اور جدید چیلنج“ کا تعارف کراتے ہوئے میرے بارے میں نہایت شاندار الفاظ لکھے تھے۔ حتی کہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ انہوں نے اس کتاب (مذہب اور جدید چیلنج) کے اعتراف میں اپنے آخری الفاظ تک صرف کر دیے۔ میرا گمان ہے کہ مولانا جلیل احسن ندوی (وفات 1981ء) کا معاملہ بھی غالباً ایسا ہی ہوا۔ تعبیر کی غلطی کے سلسلے میں انہوں نے بھی ابتداً استہزا کا انداز اختیار کیا تھا۔ مگر اس کے بعد جب 1976ء میں ماہنامہ الرسالہ جاری ہوا تو انہوں نے اس کی بڑی قدردانی فرمائی۔ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ الرسالہ اسی دینی تصور کے تحت نکالا گیا ہے، جو تعبیر کی غلطی میں پیش کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود مولانا جلیل احسن صاحب نہ صرف الرسالہ کے مستقل قاری تھے، بلکہ وہ اس کے خریدار بھی تھے۔ الرسالہ کے سلسلے میں انہوں نے کئی بار ہمت افزائی کے خطوط لکھے۔ میرا احساس ہے کہ وہ بلا اعلان میرے ہم خیال ہو چکے تھے۔ اس حلقہ فکر میں کچھ اور افراد ہیں جنہوں نے اپنے خیال کے مطابق ”تعبیر کی غلطی“ کا رد کیا ہے۔ ان حضرات نے جو طریقہ اختیار کیا، وہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی پوری کتاب میں کہیں بھی نہ تعبیر کی غلطی کا نام لیا، اور نہ اس کی اصل عبارت نقل کی۔ انہوں نے خود ساختہ طور پر کچھ مفروضہ اعتراضات قائم کر کے اس کا رد کیا اور سمجھ لیا کہ انہوں نے تعبیر کی غلطی کا رد کیا ہے۔ مگر اس قسم کی تمام تحریریں خود اپنا رد ہیں، نہ کہ تعبیر کی غلطی کا رد۔ یہ حضرات جانتے تھے کہ اگر وہ تعبیر کی غلطی کی اصل عبارت نقل کریں تو وہ علمی طور پر گرفت میں آ جائیں۔ اس لیے انہوں نے خود ہی اعتراضات قائم کیے اور خود ہی اپنے قائم کردہ اعتراضات کا جواب تحریر کر دیا، اور پھر سمجھا کہ انہوں نے تعبیر کی غلطی کو رد کر دیا ہے۔ حالانکہ انہوں نے جس چیز کو رد کیا تھا وہ ان کے اپنے مفروضات تھے، نہ کہ تعبیر کی غلطی کے اعتراضات۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page