خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی
Urdu book, p. 70
By Maulana Wahiduddin Khan
چھوڑ دوں اس سے آپ کے فکر رفیع اور علم کبیر کے احساس کو چوٹ لگتی ہے، تو افسوس ہے ۔ ( خط مورخہ 6 ستمبر 62ء) " آپ کا نفس ( نہ کہ ضمیر ) آپ کو سوتے جاگتے ہر آن اکساتا ہوگا۔ آپ سے کہتا ہوگا کہ امر بالمعروف واجب ہے، حق بات کا اعلان و اظہار و اشاعت ضروری ہے۔ اگر تم ایسا نہ کرو گے، اگر تم باطل کا لباس پہنے والوں کو ننگا نہ کرو گے۔ تو کتمان حق اور خیانت کے مجرم ہو گے۔ اور پھر آپ کا نفس ( نہ کہ ضمیر) آپ کو پورے زور سے آخرت یاد دلاتا ہوگا کہ اس دن تو اپنے اس جرم کتمان حق پر خدا کے حضور کیوں کرا اور کن الفاظ میں عذر خواہی کرے گا، آہ، آہ “ ۔ ( خط مورخہ 7 اگست 62 ء) میں درخواست کروں گا کہ براہ کرم آپ ان باتوں پر غور فرمائیں، اور سوچیں کہ کیا یہی وہ رویہ ہے جو آپ کے لیے مناسب ہے۔ خادم وحید الدین چتر پور، 7 نومبر 1962ء محترمی السلام علیکم ورحمۃ اللہ اگر سارا قصور میرا ہے، تو مجھے معافی مانگنی چاہیے ۔ اور اگر آپ کا ہے تو آپ کو۔ اس کا فیصلہ کون کرے کہ ہم میں سے کون قصوروار ہے۔ اس دنیا میں تو ہوتا نہیں۔ باقی یہ بات اپنے نقشہ کے مطابق لکھی تھی کہ آپ کی طویل تحریر پڑھ کر پہلے سوالات کروں گا چنانچہ اسی کے مطابق عمل کیا، ابھی دوسرا سوال نامہ گیا تھا کہ یہ حال ہوا، سوالات ختم ہوتے تو باقی دونوں اجزا پر گفتگو ہوتی ۔ اگر میں نے آپ سے یہ سوال کیا ہوتا کہ آپ کے سر میں کتنے بال ہیں یا اعظم گڑھ کے بند میں ریت اور مٹی کا تناسب کیا ہے۔ تو بلا شبہ یہ آپ کی تحریر کے موضوع سے بالکل غیر متعلق بات ہوتی لیکن آپ اطمینان رکھیں کہ آپ کے سوا دوسرا کوئی شخص جس نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader