Urdu book · تعبیر کی غلطی

خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی

Urdu book, p. 71

By Maulana Wahiduddin Khan

آپ کی تحریر پڑھ لی ہو، میرے سوالات کو غیر متعلق قرار نہ دے گا۔ میرے کسی سابق کارڈ میں ’’بے صبری‘‘ کی بات ٹھیک ہی آئی تھی، آپ نے اپنا وعدہ ارسال نقل مکتوب مولا نا ابواللیث صاحب، باوجود گزارش پورا نہیں کیا۔ والسلام جلیل احسن ჻჻჻჻჻ اعظم گڑھ، 12 نومبر 1962ء محترمی سلام مسنون گرامی نامہ مورخہ 7 نومبر 1962 ء ملا۔ مولانا ابو اللیث صاحب کے خط کی مکمل نقل میں نے انھیں بھیج دی ہے اگر آپ پورا خط دیکھنے کی ضرورت محسوس کرتے ہوں تو دہلی خط لکھ کر اسے حاصل کر سکتے ہیں۔ آپ نے لکھا ہے کہ آپ نے پہلے ہی مجھے یہ بات بتا دی تھی کہ آپ ’’سوالات‘‘ کریں گے، اور اب اسی ’’نقشہ‘‘ کے مطابق عمل کر رہے ہیں۔ مگر میں افسوس کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ اس سے پہلے آپ نے جو کچھ لکھا تھا اس سے میں ہرگز یہ نہیں سمجھا تھا کہ آپ اس قسم کے عجیب و غریب سوالات کریں گے، جیسے کہ آپ نے کیے ہیں۔ اس سلسلے میں آپ کا سب سے پہلا خط جو مجھے موصول ہوا وہ 15 مارچ 1962 ء کا ہے۔ یہ خط آپ نے مدرسہ الاصلاح (سرائمیر) سے لکھا تھا۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: ’’ آدمی اتنے طویل مقالے کو پڑھے گا۔ پھر آپ سے سوالات کرے گا۔ توضیح مدعا کا طالب ہوگا دلائل پر گفتگو کرے گا۔‘‘ آپ کے ان الفاظ کا مطلب میں یہی سمجھا تھا کہ ایک بات جو میں نے آپ کے سامنے رکھی ہے جوں کہ آپ کو اس سے اتفاق نہیں ہے اور آپ اس کو غلط سمجھ رہے ہیں، اس لیے آپ مراسلت کے ذریعہ اس معاملہ میں میری غلطی کو مجھ پر ظاہر فرمانے کی کوشش کریں گے، اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page