Urdu book · تعبیر کی غلطی

خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی

Urdu book, p. 72

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کی شکل یہ ہوگی کہ میں نے اپنی تحریر میں جو کچھ پیش کیا ہے، حسبِ ضرورت مجھ سے اس کی مزید توضیح کرائیں گے، میرے دلائل پر کلام کریں گے اور میری باتوں پر تنقیدی سوالات کر کے میرے استنباط واستنتتاج کے بارے میں میری غلطی مجھ پر واضح کریں گے۔ اسی تصور کے تحت میں نے آپ کے اس طریق تبصرہ سے اتفاق کر لیا تھا۔ مگر اس سلسلے میں جب آپ کا خط مورخہ 6 ستمبر 1962 ء ملا تو میں نے دیکھا کہ وہ اس سے مختلف ہے جو آپ کے پچھلے الفاظ سے میں نے سمجھا تھا۔ آپ کے اس خط میں میرے مدعا اور میرے دلائل پر کوئی گفتگو نہیں تھی۔ بلکہ اس میں مجرد قسم کے سوالات تھے جن کے بارے میں یہ کچھ نہیں بتایا گیا تھا کہ ان کا اصل مسئلہ سے کیا تعلق ہے، وہ میری کس دلیل پر تنقید ہے۔ اور میری وہ کون سی بات ہے جس کے بارے میں یہ سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ اور کیوں پیدا ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسے سوالات کو میں غیر متعلق نہ کہوں تو اور کیا کہوں۔ آپ لکھتے ہیں کہ "اگر میں نے آپ سے یہ سوال کیا ہوتا کہ آپ کے سر میں کتنے بال ہیں۔ یا اعظم گڑھ کے بند میں ریت اور مٹی کا تناسب کیا ہے تو بلا شبہ یہ آپ کی تحریر کے موضوع سے بالکل غیر متعلق بات ہوتی۔" میں عرض کروں گا کہ غیر متعلق سوال کی یہی ایک صورت نہیں ہے، یہ بھی غیر متعلق سوال ہی کی ایک قسم ہے کہ میں آپ سے کہوں کہ جماعتِ اسلامی نے اسلامی مشن کا جو تصور پیش کیا ہے، وہ قرآن سے ثابت نہیں ہوتا، اور جن جن آیتوں سے اس مشن کے حق میں استدلال کیا جاتا ہے، ان پر گفتگو کر کے بتاؤں کہ کیوں میرے نزدیک یہ آیتیں اس تصورِ مشن کا ماخذ نہیں بنتیں۔ اس کے جواب میں آپ میرے دعوے یا دلیل پر کچھ کہے بغیر بس اس قسم کے مجرد سوالات کرنا شروع کر دیں " بتاؤ فلاں آیت میں "لیقوم میں لام کیسا ہے" اور فلاں جگہ "وکذالک میں واؤ کا عطف کس پر ہے" تو ان کو بھی سوال کے الفاظ کی حد تک اصل مسئلے سے غیر متعلق کہا جائے گا۔ آپ کی یہ روش میرے لیے سخت حیرت انگیز ہے کہ پچھلے 9 مہینے سے جب سے میرا مسئلہ آپ کے سامنے آیا ہے، آپ اصل مسئلے کے بارے میں مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں، اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page