Urdu book · تعبیر کی غلطی

خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی

Urdu book, p. 73

By Maulana Wahiduddin Khan

صرف غیر متعلق باتوں میں وقت ضائع کر رہے ہیں۔ اس معاملے میں آپ کی یہ روش صرف میرے ساتھ نہیں ہے بلکہ جیسا کہ رامپور میں جلال الدین انصر صاحب اور عبدالحئی صاحب نے مجھے بتایا تھا، ان لوگوں نے بہت چاہا کہ آپ میری تحریر کے بارے میں اپنا خیال انھیں بتائیں اور میرے استدلال پر گفتگو کریں مگر بار بار کی کوشش کے باوجود آپ قطعا اس کے لیے تیار نہیں ہوئے، اب میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس میں آپ کے کیا مصالح پوشیدہ ہیں۔ خادم وحیدالدین

چتر پور، 21 نومبر 1962ء محترمی سلام مسنون آپ کا 12 نومبر کا لکھا ہوا گرامی نامہ ملا۔ 1۔ آپ نے خود ہی وعدہ فرمایا تھا کہ اگر تو چاہئے تو مولانا ابو اللیث صاحب کے خط کی مکمل نقل بھیج سکتا ہوں ۔ یاد ہے یہ وعدہ؟ 2۔ اس کے بعد میں نے آپ سے نقل مانگی تو اس کے جواب میں آپ نے خاموشی اختیار کر لی۔ کارڈ میں ایک لفظ بھی اس کے بارے میں نہیں۔ تب میں نے دوبارہ یاد دلایا۔ 3۔ تو اس کے جواب میں آپ اس کارڈ میں تحریر فرماتے ہیں کہ اس کی مکمل نقل میں نے مولانا ابو اللیث صاحب کو بھیج دی ہے، اگر آپ پورا خط دیکھنے کی ضرورت محسوس کرتے ہوں تو دہلی خط لکھ کر اسے حاصل کر سکتے ہیں ۔ اسی کو میں ”تقویٰ“ سے تعبیر کرتا ہوں تو آپ چڑ جاتے ہیں۔ اہل تقویٰ کو اپنے اس طرح کے مقتیا نہ عمل پر غور کرنا چاہئے۔ ہاں میرے بھائی سوالات، پھر توضیح مدعا اور دلائل پر گفتگو، ترتیب کے ساتھ، اب اگر میرے سوالات آپ کے تصور اور فہم سے مختلف ہو گئے تو میرا کیا قصور۔ کیا میں اپنے سوالات آپ سے استصواب کر کے مرتب کرتا۔ آپ اطمینان رکھیں، میرے سوالات مجرد سوالات نہیں ہیں۔ ”پڑھائی لکھائی“ کے بغیر آدمی کو کچھ نہیں آتا! والسلام جلیل احسن

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page