Urdu book · تعبیر کی غلطی

خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی

Urdu book, p. 76

By Maulana Wahiduddin Khan

گرامی نامہ مورخہ 13 اگست 1962 ء ملا۔ میرا ارادہ تھا کہ اگر آپ نے مولانا صدرالدین صاحب کی تحریر کے سلسلے میں میرے تاثرات مانگنے تو میں ان کے ایک ایک پوائنٹ کے بارے میں واضح طور پر اپنا تبصرہ لکھ کر بھیجوں گا، مگر آپ نے چونکہ فرمایا ہے کہ ”میں اپنے خیالات مختصر أقلم بند کر کے بھیجوں۔“ اس لیے چند ضروری باتیں عرض کرتا ہوں۔ مولانا صدرالدین صاحب اصلاحی نے سب سے پہلے ”موضوع بحث کیا ہونا چاہیے تھا“ کے عنوان کے تحت لکھا ہے کہ میں نے جماعت اسلامی کے نصب العين اور اس کی تعبیر دین کی غلطی ثابت کرنے کے لیے اس کے لٹریچر کو بنیاد بنایا ہے۔ حالانکہ صحیح طریقہ یہ تھا کہ پہلے دستور جماعت کی وہ دفعہ پوری نقل کردی جاتی جس میں نصب العين اور اس کی تشریح درج ہے اور پھر اس پر تنقید کی جاتی۔ عرض ہے کہ میرا اعتراض اصلاً ”جماعت اسلامی بحیثیت قانونی ڈھانچہ“ پر نہیں ہے بلکہ اس خاص تعبیر دین پر ہے جس کے نتیجے کے طور پر یہ ڈھانچہ وجود میں آیا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اس تعبیر کی تفصیلات لٹریچر میں ہیں، نہ کہ دستور کی قانونی دفعات میں۔ پھر دستور میں نصب العين کے فقرے کی تبدیلی کا مطلب جیسا کہ خود تبدیل شدہ دستور کے حاشیہ میں تصریح ہے، یہ نہیں ہے کہ جماعت کا سابقہ تصور دین بدل گیا۔ اس کے برعکس، حقیقت صرف یہ ہے کہ سابقہ تصور دین کو بطور نصب العين ایک قانونی فقرے میں ظاہر کرنے کے لیے جماعت نے اب ایک نیا جملہ استعمال کیا ہے۔ گویا یہ بحث بالکل اضافی ہے کہ جماعت اسلامی کا نصب العين حکومت الہیہ ہے یا اقامت دین، کیوں کہ کہ خواہ جو لفظ بھی بولا جائے اس کا تفصیلی مفہوم متعین کرنے کے لیے وہی لٹریچر دیکھنا ہوگا جو پہلے بھی جماعت کا واحد فکری سرمایہ تھا اور آج بھی عملی طور پر وہی جماعت کا واحد فکری سرمایہ ہے۔ (واضح ہو کہ یہ بات میں نے محض اصولی طور پر کہی ہے، ورنہ نہ تو ایسا ہے کہ میں نے محض ”حکومت الہیہ“ کے لفظ کو بنیاد بنا کر اپنے مضمون میں ساری تنقید کر ڈالی ہے اور نہ ایسا ہے کہ ”اقامت دین“ کے لفظ سے وہ بات ثابت ہو جاتی ہے جس کی موصوف ترجمانی کر رہے ہیں)۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page