Urdu book · تعبیر کی غلطی

خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی

Urdu book, p. 77

By Maulana Wahiduddin Khan

زیر بحث تعبیر کے حق میں سب سے پہلا استدلال "شہادت" کی آیت سے کیا جاتا ہے، "شہادت حق" نامی پمفلٹ کی تشریح کے مطابق شہادت کا کام جس کے لیے انبیاء بھیجے گئے تھے، وہ یہ تھا کہ زبانی تبلیغ کے ساتھ ساتھ اسلام کے پورے نظام کا زندگی کے تمام انفرادی اور اجتماعی قومی اور بین الاقوامی شعبوں میں عملی مظاہرہ کیا جائے، اس کے بغیر شہادت اور تبلیغ کی ذمہ داری پوری طرح ادا نہیں ہوسکتی اور نہ نوع انسانی پر اتمام حجت ہو سکتا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ جماعت اسلامی نے جو انقلابی نصب العین اپنے سامنے رکھا ہے وہ وہی ہے جو شہادت کی آیت کے تحت ہم پر فرض کیا گیا ہے۔ اس استدلال پر میں نے اعتراض کیا تھا کہ شہادت اور اتمام حجت کا یہ مطلب کسی بھی رسول کی زندگی سے ثابت نہیں ہوتا، وہ تمام رسول جن سے ہم واقف ہیں اور جن کا قرآن میں ذکر ہے، انہوں نے زبانی تبلیغ ہی کے ذریعہ شہادت کی ذمہ داری کو ادا کیا تھا۔ کسی بھی رسول نے اس طرح اتمام حجت نہیں کی کہ اس نے اپنی امت دعوت کے سامنے پورے نظام اسلامی کا ہمہ گیر عملی مظاہرہ کر کے دکھایا ہو، قرآن میں درجوں بلکہ سینکڑوں آیتیں ہیں جن میں نبی کے دعوتی کام کا ذکر ہے، مگر کہیں بھی "عملی شہادت" یا اتمام حجت کے لیے اسلامی نظام زندگی کے " مظاہرہ" کا کوئی ذکر نہیں، بلکہ ہر جگہ "کہنے" اور "سنانے" کی قسم کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں میرے استدلال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں: "دراصل انھیں دھوکا ان آیتوں کو دیکھ کر اور ان کے سیاق وسباق اور مقصد بیان پر پوری طرح غور نہ کر سکنے کی وجہ سے لگ رہا ہے جن میں یہ فرمایا گیا ہے کہ رسولوں پر اچھی طرح پہنچا دینے کے سوا اور کوئی ذمہ داری نہیں (فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِين [16:35]، وغیرہ) حالانکہ اس طرح کی آیتیں انبیاء کے پورے کار شہادت اور فریضۂ رسالت کا تعین کرنے والی ہی نہیں، یہ تو کار شہادت کے صرف آغاز اور اس کی ابتدائی منزل کا تعین کرتی ہیں، اور جہاں تک حصر کا اسلوب رکھنے والی آیتوں کا تعلق ہے وہ تو صرف ان معاندین حق کے پیش

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page